برہان پور: آج برہانپور کی معروف دینی درسگاہ دارالعلوم شیخ علی متقی میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے سہ روزہ سیمینار کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب نے کیاس موقع پر اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے جنرل سیکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کلیدی خطبہ پیش فرمایا، انہوں نے اپنے کلیدی خطبہ میں اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کے درمیان جو کچھ مسلکی اختلاف ہے وہ فروعی مسائل ہیں، جو ایمان کی اساس اور نجات کا مدار نہیں ہے اور ان میں ایک سے زائد آرا کی گنجائش ہے اور سلف صالحین میں دونوں نقطہ نظر کے حاملین ہیںاس لئے اپنے مسلک کے بارے میں شدت اورایک رائے پراصراراوردوسرے نقطہ نظرکی تغلیط سے بچناچاہئے۔ہندوستان کے اکابرعلماء حضرت مولاناقاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ ،حضرت مولانارشیداحمدگنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اورعلامہ انورشاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے ان مسائل میں شدت برتنے اوران کوحق وباطل قراردینے میں معیاربنانے سے منع کیاہے اورملک کے موجودہ حالات میں اس بات کی شدیدضرورت ہے کہ ملت اسلامیہ چھوٹے چھوٹے فروعی اختلاف کوبحث ومباحثہ کاموضوع نہ بنائیں اورملت کے مشترک مسائل کے حل کے لئے کوششیں کی جائیں۔
مولانارحمانی نے اس پس منظرمیں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکاذکرکرتے ہوئے کہاکہ اکیڈمی نے اختلافی مسائل میں اعتدال ،ایک دوسرے کی رائے کاتحمل اوراختلاف کے باوجوداتحادکی ایک روایت قائم کی ہے،اورجسے آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈنےعام مسلمانوں میں مسلک ومشرب کے اختلاف کے باوجودایک اسٹیج پرجمع ہوجانے اورمل جل کرکام کرنے کی بنیادرکھی ہے،اسی طرح اسلامک فقہ اکیڈمی نے طبقہ علماء کوایک ساتھ مل بیٹھنے اوراختلاف رائے کے باوجودایک پلیٹ فارم پرجمع ہونے کی بہترین روایت قائم کی ہے۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت دارالعلوم وقف دیوبندکے مہتمم مولاناسفیان قاسمی کررہے تھے،انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں دارالعلوم دیوبندکے قیام کے مقاصدکاذکرکرتے ہوئے فرمایاکہ دارالعلوم دیوبندکے قیام کابنیادی مقصدملت اسلامیہ ہندیہ کے دین وایمان کی حفاظت کرناتھا،کیوں کہ بانی دارالعلوم حجۃ الاسلام حضرت نانوتوی کامانناتھاکہ اقتدارجانےکے بعدواپس آسکتاہے لیکن اگرایمان چلاگیاتوسب سے بڑی دولت ہی ختم ہوجائے گی،کچھ بھی نہیں بچے گا۔انہوں نےمزیدکہاکہ اسلامک فقہ اکیڈمی کے قیام کے مقاصدمیںبھی حضرت قاضی مجاہدالاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے پیش نظربھی یہی تھا کہ آنے والاوقت ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بہت دشوارکن ہونے والاہے،اسی لئے اس کی تیاری ابھی سے کرنی ہوگی اوراسی کے پیش نظرحضرت قاضی صاحب نے اکیڈمی کی بنیادرکھی،یہ دراصل قاضی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ایمانی فراست تھی ۔مولاناقاسمی نے اخیرمیں فرمایاکہ حکومتوں کی سرپرستی میں اکیڈمیاں اتنے وسیع پیمانے پرکام نہیں کرپاتی ہیں لیکن اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیابے سروسامانی کے عالم میں اتنابڑاکارنامہ انجام دیا ہے جس کی نظیرملنی مشکل ہے اوریہ سب بانی اوران کے رفقاکارکے اخلاص کاہی نتیجہ ہے۔
اکیڈمی کے سکریٹری مولاناعتیق احمدقاسمی بستوی نے سیمینارکے موضوعات کاتعارف کراتے ہوئے علمائے کرام کومخاطب کرتے ہوئے فرمایاکہ آج ہمارایہ حال ہوگیاہے کہ ہم اپنے مسلک کواس اندازمیں پیش کرتے ہیں کہ گویاصرف ہمارامسلک ہی حق ہے،بقیہ سب باطل ہے،اس سے ہمیں بچناچاہئے بلکہ ہمیں اعتدال کے ساتھ سبھی مذاہب کے بارے میں بتاناچاہئے،ہمیں اپنی تحریروں،تقریروں اوراندازدرس غرض کہ ہرجگہ اعتدال کی راہ اپنانی چاہئے۔
اکیڈمی کے سینئررکن اورخازن مفتی احمددیولہ نے کہاکہ یہ جوکچھ رونقیں آج آپ دیکھ رہےہیں یہ سب اکیڈمی کے بانی قاضی مجاہدالاسلام قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے اخلاص کانتیجہ ہے۔جامعہ نظامیہ حیدرآبادکے مفتی صادق محی الدین نے کہاکہ ہمیں مسلمانوں کے تمام طبقات کی فکرکرنے کی ضرورت ہے،بالخصوص ایسے نوجوان جوعصری اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اوردین سے دورہوجاتے ہیں ان کی فکرکرنابہت ضروری ہے۔جامعہ دارالسلام عمرآبادکے ڈاکٹرعبداللہ جولم نے برادران وطن میں دعوت دین پرزوردیااوراس کی راہیں تلاش کرنے کےتعلق سے غوروفکرکی دعوت دی۔جماعت اسلامی ہندکے شعبہ اسلامی معاشرہ کے سکریٹری ڈاکٹررضی الاسلام ندوی نے کہاکہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکی اہمیت سے ہندوستان کے لوگ بھلے ہی کم واقف ہوں ،لیکن بیرون ممالک بالخصوص عالم اسلام کی یونیورسیٹیوں میں ایم فل اورپی ایچ ڈی کے مقالوں میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکے فیصلوں ،تجاویزاورقراردادوں کابہت احترام کیاجاتاہے اوران کاحوالہ بہت اہتمام کے ساتھ پیش کیاجاتاہے۔مدھیہ پردیش کے معروف عالم دین مفتی جنیداحمدفلاحی نے اکیڈمی کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ برہانپورجیسے پسماندہ شہرکوسیمینارکے لئے منتخب کرنایقینابرہانپورکے لئے فخرکی بات ہے۔مولاناتصورحسین فلاحی اندوری نے سیمینارکے کامیاب انعقادکے لئے دارالعلوم کے بانی وناظم مفتی رحمت اللہ قاسمی کومبارکبادپیش کی۔بھوپال سے تشریف لائے مفتی بھوپال مفتی ابوالکلام قاسمی نے کہاکہ برہانپورجیسے شہرمیں جہاں ائیرپورٹ کی سہولت نہیں ہے سیمینارکاانعقادکرنااوراکابرعلماء کاتمام مشقتوں کوبرداشت کرتے ہوئے اس سیمینارمیں شرکت کرناصرف اورصرف اکابرعلماء کااخلاص نیت اورملت اسلامیہ کی انتہائی فکرمندی کی اعلیٰ مثال ہے۔
واضح رہے کہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیاکااکتیسواں سہ روزہ سیمینارمدھیہ پردیش کے تاریخی شہربرہانپورکے دارالعلوم شیخ علی متقی میں منعقدہورہاہے۔یہ سیمینار۷؍نومبرتک چلے گا۔آج اس کاافتتاحی اجلاس تھا،افتتاحی اجلاس کاآغاز دارالعلوم کے ایک طالب علم کی تلاوت قرآن مجیدسے ہوا۔اس کے بعدنعت نبی کانذرانہ بھی دارالعلوم شیخ علی متقی کے ایک طالب علم نے پیش کیا،اجلاس کی نظامت فقہ اکیڈمی کے رکن علمی مفتی صفدرزبیرندوی نے انجام دئیے۔اس موقع پردارالعلوم شیخ علی متقی کے بانی وناظم مفتی رحمت اللہ قاسمی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیاجس میں انہوں نے دارالعلوم کامختصرتعارف کراتے ہوئے دارالعلوم میں دوسرے سیمینارکے انعقادپراکیڈمی کے ذمہ داران بالخصوص مولاناخالدسیف اللہ رحمانی کاشکریہ اداکیااورساتھ ہی ملک بھرسے تشریف لائے ہوئے علمائے کرام بھی شکریہ اداکیا۔اجلاس کے آغازمیں برہانپورکے ایم ایل اے ٹھاکرسریندرسنگھ نے علماومفتیان کرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے تو اپنی سرزمین پرآپ حضرات کااستقبال کرتاہوں اس کے بعدمیں اسلامک فقہ اکیڈمی کاشکریہ اداکرتاہوں کہ وہ دیش کے لوگوں کوصحیح طور پرزندگی گذارنے کاطریقہ سکھاتاہے،آپ لوگ تعلیم کے میدان میں کام کررہے ہیں،یقینادیش تعلیم یافتہ ہوگاتبھی دیش کی جمہوریت مضبوط ہوگی۔خاص بات یہ رہی کہ ٹھاکرسریندرسنگھ نے اپنی گفتگوکاآغازسلام سے کیا،درمیان میں بات بات پرانشاء اللہ بھی کہتے رہے اورآخرمیں خداحافظ کہہ کراپنابیان ختم کیا۔اس موقع پرکانگریس ضلع صدرنے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک ایساپروگرام ہے جودین کی باتوں کے ساتھ ساتھ ملک میں امن وامان کیسے قائم کریں،بھائی چارہ کیسے فروغ دیں،وہ بھی ہمیں سکھاتاہے،جس طرح علمائے دین نے دیش کوآزادکرانے میں اپنی قربانی دی اس وقت ضرورت ہے کی علمائے دین دیش میں بھائی چارہ قائم کرنےاورنفرت کے سیلاب کوروکنے کے لئے بھی آگے آئیں۔
یادرہے کہ اجلاس کے اخیرمیں اکیڈمی کی چنداہم مطبوعات کارسم اجرابھی کیاگیا۔اکیڈمی کے رکن علمی مفتی احمدنادرالقاسمی کی مرتب کردہ کتاب رویت ہلال سے متعلق چنداہم مسائل کا رسم اجرامفتی صادق محی الدین کے ہاتھوں ہوئی،مفتی امتیازاحمدقاسمی کی مرتب کردہ کتاب محرم کے بغیرسفر کارسم اجرامولاناعتیق احمدبستوی کے ہاتھوں ہوا،کوروناوباسے متعلق مفتی احمدنادرالقاسمی کی مرتب کردہ کتاب کارسم اجرامولاناسفیان قاسمی کے ہاتھوں عمل میں آیا،اسی طرح سوشل میڈیا کے مسائل پرمفتی امتیازاحمدقاسمی کی مرتب کردہ کتاب کارسم اجرامفتی احمددیولہ نے کیا،اکیڈمی کے تعارف پرمشتمل عربی مجلہ مرتب کردہ مولاناصفدرزبیرندوی کارسم اجراڈاکٹررضی الاسلام ندوی کے ہاتھوں ہوا،مفتی جمیل اخترجلیلی کی مرتب کردہ کتاب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہااوران کی عمرکارسم اجراڈاکٹرعبداللہ جولم نے کیاجب کہ مفتی صابرحسین ندوی کی دوکتاب فقہ مقارن اورمقاصدرشریعت کارسم اجراقاری ظفرالاسلام کے ہاتھوں عمل میں آیا۔اس موقع پرمقامی سماجی،ملی وسیاسی شخصیات کاشال اوڑھاکراستقبال بھی کیاگیا۔اخیرمیں صدرمحترم مولاناسفیان احمدقاسمی کی دعاپراجلاس کااختتام ہوا۔

سمیر چودھری۔