مدھوبنی: عادل فریدی۔
مدرسہ عارفیہ سنگرام، مدھوبنی میں دار القضاء کا قیام عمل میں آیا، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے امیر شریعت بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے کہاکہ قاضی آج کے زمانے میں صرف وہ شخص نہیں ہے جس کے پاس صرف آپ اپنے جھگڑے کو حل کر انے کے لیے آئیں ،بلکہ قاضی ایک عالم ، فقہ و فتاویٰ کا ماہر اور آپ کے دیگر شرعی و دینی مسائل کا حل کرنے والا بھی ہے ، اس لیے اپنی زندگی سے متعلق کو ئی بھی مسئلہ معلوم کرناہو تو آپ قاضی سے رابطہ کر سکتے ہیں۔آپ نے دار القضاء کی قانونی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ دار القضاء کا قیام آئین ہند اور ہندوستانی قانون کے مطابق ہوا ہے ، یہ کوئی متوازی کورٹ سسٹم نہیں ہے ،بلکہ اقلیت کو جو آزادی آئین کے اندر دی گئی ہے ،اس کے تحت بنایا گیا ادارہ ہے۔دار القضاکے قیام کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس دار القضاء کے قیام سے ہم سر کاری عدالتوں کا تعاون کر رہے ہیں اور اس کے بوجھ کو کم کر رہے ہیں۔آپ نے لوگوں کو پیغام دیا کہ وہ مسلک ، ذات برادری اور دیگر تفریقات کو ختم کر کے آپس میں مل جل کر رہیں ۔ اور اگر کوئی تنازع ہوجائے تو اس کو اللہ او ر رسول کے حکم کے مطابق دار القضاء سے حل کرائیں۔ یہ بڑا اہم اور قیمتی کام ہے، ہمارے معاملات ہم لوگ خود حل کر یں، ہمارے جھگڑے قرآن و حدیث کے اور اللہ کے حکم کے مطابق حل ہوں یہ ہم سب کی شرعی ذمہ داری اور جواب دہی ہے اور دار القضاء کا قیام اس کی طرف ایک مضبوط قدم ہے۔مجھے امید ہے کہ آپ تمام حضرات جو اس علاقہ اور اس دار القضاء کے دائرہ کارمیں آتے ہیں، نہ صرف اس کی بھر پور تائید، مضبوط حمایت اور دل کھول کر تعاون کریں گے، بلکہ پورے اعتماد اور بھروسے کے ساتھ اپنے آپسی معاملات یہاں لائیں گے اور قرآن و حدیث کے مطابق فیصلہ کرائیں گے۔آپ نے مسلمانوں کو پیغام دیا کہ وہ اپنے تمام افعال و اعمال میں آخرت کا مضبوط تصور قائم کریں ۔آپ نے لوگوں کو جھوٹ، تعصب اور دیگر سماجی برائیوں سے دور رہنے کا بھی پیغام دیا۔