ضلع کی تحصیل دھرنگاؤں میں املنیر روڈ پر واقع پہاڑی پر حضرت احمد شاہ کمالی (قتالی) عرف ڈونگر پیر بابا (پہاڑی والے بابا) کی درگاہ قدیم زمانے سے قائم تھی۔ یہاں تمام مذاہب کے لوگ بڑی عقیدت سے آتے تھے۔ اچانک انتظامیہ کے حکم پر 2 نومبر 2022ء کو یہ درگاہ پوری طرح منہدم کر دی گئی. یہاں تک کہ مزار شریف یعنی تعویذ کو بھی مسمار کرکے مسطح کر دیا گیا۔ یہاں کے لوگ بتاتے ہیں کہ یہ درگاہ آزادی سے قبل 1937ء سے یہاں قائم ہے۔ درگاہ سے قریب ایک کنواں بھی واقع تھا۔ جس پر سن 1937ء کندہ تھا۔ ارنڈول کے پرانت آفیسر کے حکم پر یہ انہدامی کارروائی کی گئی۔ انہدام کے بعد درگاہ شریف کا ملبہ اسی کنویں میں ڈال دیا گیا۔ اس کنویں کو بھی پوری طرح سے مسمار کر کے پاٹ دیا گیا۔سن 1966 کی 7/12 کی نقل پر اس درگاہ کا تذکرہ موجود ہے۔ اسی طرح گاؤں کے نقشے اور فارسٹ کے نقشے پر بھی درگاہ دکھائی پڑتی ہے۔ مگر انتظامیہ نے تمام شواہد کو درکنار کر کے انہدامی کارروائی کر دی۔ اس سے درگاہ کی بڑے پیمانے پر بے حرمتی ہوئی۔ مگر درگاہ کے ہندو مسلم عقیدت مندوں نے بڑے ہی امن و شانتی کا مظاہرہ کیا اور دھرنگاؤں شہر میں کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا لیٹر :مبینہ طور پر اس غیر قانونی انہدامی کاروائی سے ایک روز پہلے یکم نومبر 2022ء کو مہاراشٹر وقف بورڈ کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر سید جنید صاحب نے جلگاؤں ضلع کلکٹر اور دھرنگاؤں نگر پریشد کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو ایک لیٹر دے کر کسی بھی طرح کی کارروائی نہ کرنے کے لیے متنبہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنے لیڈر میں کہا کہ"گٹ نمبر 2 /1248 میں واقع درگاہ حضرت احمد شاہ کمالی شاہ بابا (ڈونگر پیر بابا) رجسٹر وقف ملکیت ہے۔ اس معاملے میں موجود دستاویزات کی بنیاد پر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ رینج فارسٹ آفیسر کے ذریعے مصدقہ نقشہ پر گٹ نمبر 1248/1 میں درگاہ کا موجود ہونا درج ہے۔ حضرت احمد شاہ کمالی شاہ بابا کی درگاہ غیر قانونی تجاوزات (Encroachment) میں ہونے کی وجہ سے اس کے انہدام کا حکم جاری ہونے کے خلاف ہمیں شکایت موصول ہوئی ہے۔ اس معاملے میں بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ ملکیت آزادی سے قبل سے واقع ہے۔ پرانے سروے نمبر 642 کی 7/12 کی نقل کے مطابق یہاں درگاہ اور پرانا کنواں درج ہے۔ اس کنویں کے پتھر پر کچھ جگہوں پر "سید احمد شاہ کمالی 13 اگست 1937ء" اس طرح اردو میں کندہ کیا ہوا ہے۔ اس کی تصویر منسلک ہے۔ اسی طرح مذکورہ درگاہ کی عقب میں ایک پتھر پر کندہ ہے "سید احمدشاہ کمالی 1836 ہجری"بورڈ کے لیٹر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "مذکورہ ملکیت آزادی سے قبل کی ہونے کی وجہ سے مرکزی قانون place of worship (special provision act) 1991"کی دفعہ 4 اور 7 کے مطابق 15 اگست 1947ء سے قبل کے تمام مذہبی مقامات کو اسی طرح رکھنے کا کہا گیا ہے۔ اس لیے اس کی حفاظت اور انتظام ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح مرکزی حکومت نے پاس کیے وقف ایکٹ 1995 کی دفعہ 36 کے مطابق مذکورہ ملکیت بطور وقف ملکیت رجسٹر ہے۔ اس کا رجسٹر نمبر MSBW/JGN/676/2022 ہے۔ اسی طرح یہ رجسٹر ملکیت سروے نمبر 1248/2 کے مطابق اس آفس میں درج ہے۔"پھر وقف بورڈ کے لیٹر میں متنبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ"وقف ایکٹ کے مطابق وقف کی ملکیت سے متعلق کسی بھی طرح کا تنازع ہونے کی صورت میں وقف ٹریبونل اورنگ آباد یا عدالت عالیہ میں شکایت درج کی جا سکتی ہے۔ دیگر کسی کو بھی وقف ملکیت کے متعلق فیصلہ لینے کا اختیار نہیں ہے۔ لہذا آپ سے گزارش کی جاتی ہے کہ آپ کے دفتر سے وقف ایکٹ کے مشمولات کے خلاف کسی بھی قسم کا حکم جاری ہوا ہو تو اس حکم کو رد کیا جائے۔ اسی طرح "در گاہ حضرت احمد شاہ کمالی شاہ بابا" اس وقف ملکیت کی حفاظت کے نقطہ نگاہ سے متعلقین کو مناسب احکامات جاری کیے جائیں۔ "وقف بورڈ کے ان واضح احکامات کے باوجود انہدامی کارروائی کی گئی۔انہدامی کارروائی کے خلاف احتجاجی میمورینڈم :انہدام کے دوسرے دن 3 نومبر 2022ء کو در گاہ کے ٹرسٹیان اور جلگاؤں شہر کے کچھ سرکردہ افراد نے جلگاؤں ضلع کلکٹر شری امن متل کو ایک احتجاجی میمورنڈم دیا۔ اس میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ۔"وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سید جنید صاحب کے واضح لیٹر کے باوجود آپ نے وقف ملکیت کی حفاظت نہ کرتے ہوئے اسے غیر قانونی تجاوزات بتا کر مکمل طور پر زمین بوس کردیا۔ اس کی وجوہات ذیل کے مطابق ہیں۔"اس میمورنڈم میں ان وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ"ممبئی کی سوسائٹی "مانو سیوا سنکلپ پرتیشٹھان" نے جلگاؤں کے کلکٹر کو عریضہ دے کر گٹ نمبر 1248/1 کی جگہ پر حضرت احمد شاہ کمالی شاہ بابا درگاہ کو مزین کرنے کی اجازت مانگی تھی۔ انہوں نے ہی اس جگہ کو مزین کرنے کے نام پر کچھ غیر قانونی تعمیرات کی تھی۔ اس کے خلاف 9 ستمبر 2021 کو شکایت کی گئی۔ اس پر جلگاؤں ضلع کلکٹر نے 13 ستمبر 2021ء کو "مانو سیوا سنکلپ پرتیشٹھان" کے ذریعے کی گئی غیر قانونی تعمیرات فورا روکتے ہوئے اسے نکالنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے خلاف ایڈیشنل ڈویژنل کمشنر، ناسک کو درگاہ ٹرسٹ نے اپیل نمبر 569/2021 داخل کی۔ جس میں کہا گیا ہے کہ گٹ نمبر 1248/1 کی اراضی مویشیوں کی چراگاہ کے طور پر محفوظ کی گئی ہے۔ اسی طرح گٹ نمبر 1248/2 کی اراضی حکومت مہاراشٹر کے شعبہ جنگلات کی ملکیت ہے۔ مذکورہ زمین سرکاری ہے۔ البتہ سرکاری دستاویزات میں وہاں درگاہ ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ مذکورہ اپیل پر ایڈیشنل ڈویژنل کمشنر نے حکم دیا کہ غیر قانونی تجاوزات نکالنے سے قبل درگاہ ٹرسٹ کے تمام دستاویزات کی جانچ کی جائے۔ درگاہ ٹرسٹ نے "مانو سیوا سنکلپ پرتیشٹھان" کے ذریعے کی گئی مزین کاری کی جلگاؤں ایڈیشنل کلکٹر کے روبرو بھی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے ان سے کسی بھی طرح کا تعلق نہ ہونے کا تحریری بیان دیا۔ "میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر منہدم شدہ درگاہ کو تعمیر کیا جائے ورنہ شدید احتجاج کی جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت احمد شاہ کمالی (قتالی) ڈونگر پیر بابا رحمت اللہ علیہ کی درگاہ جس گٹ نمبر میں واقع ہے اس گٹ نمبر کے دو/2 حصے ہیں۔ 1248/1 اور 1248/2۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1248/1 حصہ مویشیوں کی چراگاہ کے طور پر محفوظ (Reserved) ہے۔ اس جگہ پر دھرنگاؤں تعلقہ کورٹ اور کورٹ کے افسران کی رہائش گاہیں (Quarters) تعمیر کی جا چکی ہیں۔ مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ گٹ نمبر 1248/2 جہاں حضرت احمد شاہ کمالی (قتالی) ڈونگر پیر بابا رحمتہ اللہ علیہ کی مزار اور کنواں ملک کی آزادی کے پہلے سے موجود تھا اس حصے پر بھی گٹ نمبر 1248/1 کے مویشیوں کی چراگاہ کا تحفظ Reservation قرار دیا جا رہا ہے۔ دھرنگاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہدامی کاروائی سے ایک دن قبل ایرنڈول کے پرانت ادھیکاری، دھرنگاؤں کے تحصیلدار اور دھرنگاؤں کے پولیس سب انسپکٹر (PSI) کے زیر نگرانی شہر میں امن کمیٹی کی میٹنگ بلائی گئی۔ اس میٹنگ میں کمالی شاہ بابا کے عقیدت مندوں اور دھرنگاؤں کے باشندوں کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ درگاہ اور کنویں کو کسی بھی طرح کا نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ تمام افراد سے شہر میں امن و امان قائم رکھنے کی اپیل کی گئی۔ جس پر بھروسہ کر کے تمام اہلیان دھرنگاؤں نے امن و امان برقرار رکھا۔ مگر درگاہ اور کنویں کو بھی مسمار کر دیا گیا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ دھرنگاؤں کے رکن اسمبلی شندے گروپ کے فائر برینڈ لیڈر گلاب راؤ پاٹل ہیں۔ جو فی الحال جلگاؤں ضلع کے سر پرست وزیر بھی ہیں۔ مگر پھر بھی آزادی سے قبل سے موجود درگاہ اور اس سے ملحق کنواں مسمار کر دیا گیا۔دھرنگاؤں کی عوام کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کے مذہبی آثار مٹانے کی یہ کوئی منظم سازش نظر آتی ہے۔ اس لیے ہم درگاہ شریف کی تعمیر نو تک قانونی لڑائی جاری رکھیں گے۔