نئی دہلی: ٹوئٹر نے 26 اگست سے 25 ستمبر کے درمیان بچوں کے جنسی استحصال، غیر متفقہ عریانیت اور متعلقہ مواد کو فروغ دینے کے لیے ہندوستان میں تقریباً 52141 کھاتوں پر پابندی لگا دی ہے۔ مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم نے دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے 1982 کھاتوں پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ٹوئٹر نے ہندوستان کے نئے آئی ٹی قانون 2021 کی تعمیل سے متعلق اپنی ماہانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسے شکایات کے ازالہ نظام کے ذریعے 157 شکایات موصول ہوئیں اور 129 معاملوں میں کارروائی کی گئی۔ ٹوئٹر نے کہا، "اس کے علاوہ ہم نے ان 43 شکایات پر کارروائی کی جن میں کھاتوں کی معطل کے خلاف اپیل کی گئی تھی۔ ان تمام معاملوں کو حل کر دیا گیا ہے۔ٹویٹر نے ایک بیان میں مزید کہا کہ "ہم نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ان میں سے کسی بھی اکاؤنٹ کی معطلی واپس نہیں لی اور یہ تمام اکاؤنٹس بدستور معطل ہیں۔ ہمیں اس رپورٹنگ کی مدت کے دوران ٹوئٹر اکاؤنٹس کے بارے میں عمومی سوالات سے متعلق 12 درخواستیں بھی موصول ہوئی ہیں۔"غور طلب ہے کہ گزشتہ ماہ دہلی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے کہا تھا کہ چائلڈ پورنوگرافی کی شکایات پر ٹوئٹر سے موصول ہونے والے جوابات نامکمل ہیں اور کمیشن ان سے مطمئن نہیں ہے۔ مالیوال نے 20 ستمبر کو ٹویٹر انڈیا پالیسی کے سربراہ اور دہلی پولیس کو پلیٹ فارم پر چائلڈ پورنوگرافی اور خواتین اور بچوں کی عصمت دری کی ویڈیوز دکھانے والے ٹویٹس پر طلب کیا تھا۔کئی ٹویٹس کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے، جن میں کھلے عام بچوں کے ساتھ جنسی حرکات کی ویڈیوز اور تصاویر کو دکھایا گیا تھا، کمیشن نے کہا تھا کہ زیادہ تر ٹوئٹس میں بچوں کو مکمل طور پر برہنہ دکھایا گیا تھا اور ان میں سے اکثر میں بچوں اور خواتین کے ساتھ زنا بالجبر اور دیگر غیر رضامندی سے کی گئی جنسی حرکات کو بھی دکھایا گیا تھا۔دریں اثنا، ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک نے بھی ٹوئٹر پر چائلڈ پورنوگرافی والی ٹویٹس کی موجودگی کے بارے میں رپورٹس پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نئے آئی ٹی قانون 2021 کے تحت، 50 لاکھ سے زیادہ صارفین والے بڑے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ماہانہ تعمیل رپورٹ شائع کرنا ہوگی۔