مفتی عبدالسمیع قاسمی ۷؍ سال بعد رہا۔
لکھنو: مولانا ومفتی عبدالسمیع قاسمی کو ۴؍ فروری ۲۰۱۶ کو لکھنو اے ٹی ایس نے ہردوئی کے قریب گرفتار کیا تھا، جس میں انہیں ۷ سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ بتایاجارہا ہے کہ آج ۶ سال ۸ ماہ ۲۸ دن بعد دہلی عدالت نے انہیں تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے رہائی دے دی ہے۔ رہائی کے بعد مولانا اپنےگھر رام پور پہنچ گئے ہیں۔ 
عدالت نے انہیں رہا کرتے ہوئے تمام الزامات سے بری قرار دیا اور کہاکہ مفتی صاحب بے قصور ہیں۔ رہائی کی خبر کے بعد سوشل میڈیا کے معروف پلیٹ فارم پر مولانا آصف انظار ندوی نے لکھا کہ ’’مولانا عبد السمیع صاحب کو ۲۰۱۶ میں گرفتار کیا گیا تھا وہی معروف الزام جو مسلمانوں کے لیے بھارتی حکمرانوں کے دلوں پیوست ہے ،لگایا گیا ۔یعنی کہ مولانا عبد السمیع صاحب دہشت گرد ہیں ۔مہینوں نیشنل میڈیا پر " خطرناک دہشت گرد " کی گرفتاری کا ذکر شور انگیز رہا اور آج قریب سات سالوں کے بعد مولانا رہا ہوئے تو بس خاموشی ہی خاموشی ہے۔ان سات سالوں میں مولانا ملت کے حافظے سے بھی محو ہوگئے۔۔مولانا عبد السمیع صاحب بھارت کے ان مقررین میں سے ہیں جو نہایت سدھی ہوئی تقریر کرتے ہیں ۔ان کی تقریروں میں جادو ہوتا تھا ۔ہم نے مولانا عبد السمیع صاحب کو بھارت کا ایسا مقرر دیکھا جو بے حد مرتب اور شعوری گفتگو کرتا ہے۔ عوامی گفتگو بھی معرکے کی فرماتے تھے اور تحریکی وعلمی گفتگو بھی نہایت نپی تلی کرتے ہیں ۔۔جئے پور کے ایک اجلاس میں مولاناعبد السمیع صاحب اور سید سلمان الحسینی صاحب کی تقریر ہوئی۔۔اور سننے والوں کا عام تاثر یہ تھا کہ مولانا عبد السمیع صاحب کی تقریر فائق ہے۔
مولانا ملت کے عظیم اثاثہ ہیں ۔۔سات سال کی جرم بے گناہی کی سزا کاٹ کر آج باعزت بری کئےگئے ہیں۔۔تو نہ نیشنل میڈیا میں کوئی خبر ہے۔۔نہ سوشل میڈیا پر کوئی سرسراہٹ ۔۔شاید اردو کے اخبارات میں کسی کونے میں دوسطریں آجائیں‘‘۔مولانا کی رہائی کے بعد یہ بھی دعویٰ کیاجارہا ہے کہ انہوں نے قید کے دوران قرآن پاک مکمل حفظ کرلیا ہے۔