Latest News

فیک نیوز کی روک تھام کیلئے یونیسیف کی مثالی کوشش: شاہنوازبدرقاسمی۔

صحافت سچ کہنے کا نام ہے ،یہاں کچھ بولنے اور لکھنے سے پہلے پھونک پھو نک کر قدم رکھا جا تا ہے ۔لیکن کچھ برسوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ صحافت کے نام پر منافقت ہو رہی ہے اور جھوٹ پروسا جا رہا ہے ۔ میڈیا پیشہ وروں نے خود کو اصولوں سے دور کر لیا ہے ،وہ کمزوروں کی آواز بننے کے بجائے جھوٹوں کا ساتھ دے رہےہیں،حقیقت اور سچائی کو چھوڑ کر سسٹم کی زبان بولنے لگے ہیں ، اسی کا نتیجہ ہے جرنلزم سے عوام کا اعتماد کم ہو تا جا رہا ہے ۔عالمی ادارہ ’یونیسف‘ نے جرنلزم کواعتماد کی پٹری پر لانے اور کھویا ہوا وقار بحال کرنے کے لئے دہرہ دون میں28 اور 29 اکتوبر 2022 کو ہیلتھ جرنلزم (CAS)کے عنوان پر دو روزہ قومی ورکشاپ کا اہتمام کیا۔
یونیسف انڈیا اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کےاشتراک سےمنعقداس ورکشاپ میں ملک بھر سے مختلف زبانوں کے سوسے زائد سینئر صحافیوں اور ایڈیٹران نے شرکت کی۔ میڈیا کے ماہرین کا فوکس فرضی خبروں(Fake News)کی روک تھام اور اس کے نقصانات پر رہا۔اس کے ساتھ ہی شرکاء نے ہیلتھ جرنلزم پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
 ورکشاپ میں صحافیوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جارہی فرضی خبروں پرنہ صرف افسوس کااظہار کیا؛ بلکہ اس کی روک تھام کیلئے موثراقدامات پر زور دیا اور’ ہیلتھ جرنلزم ‘کے نام سے ایک نئے کورس کی شروعات کی بھی وکالت کی،جس کے ذریعہ فرضی خبروں پر کافی حد تک کنٹرول کیا جاسکتاہے۔میڈیا سے وابستہ ماہرین نے اعداد وشمار اورحالیہ واقعات پر مبنی فیک نیوز سے ہونے والے نقصانا ت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ:
’ ہمارا قلم صرف زندگی بچانے کیلئے اٹھناچاہئے موت کیلئے نہیں،کورونا وباء کے دوران جس تیزی کے ساتھ فرضی خبریں پھیلائی گئیں وہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ اور شرمناک ہے۔سوشل میڈیا کے اس دور میں فرضی خبروں سے خود کو بچانا اور سماج کو صحیح خبریں فراہم کرنا میڈیا سے جڑے تمام لوگوں کا فرض منصبی ہے۔ ہیلتھ جزنلزم کا تصور ہمارے ملک میں نہیں ہے جس کے نقصانات کا اندازہ ہمیں کوویڈ کے دوران بخوبی ہوا۔ آئندہ ایسا نہ ہو اور موت کا ماتم دیکھنا نہ پڑے ،اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم مختلف زبانوں کے اخبارات ،ٹی وی اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعہ ہیلتھ جرنلزم کو فروغ دیں ۔کسی بھی خبر کو آنکھ بند کرکے قبول نہ کیاجائے، جانچ ، پرکھ کر اور صحیح معلومات حاصل کرکے خبروں کو حتمی شکل دی جا ئے اور آگے بڑھایا جائے۔ تفتیش کی کسوٹی پر پرکھے بغیر کسی بھی خبر پر بھروسہ کر لینا ؛دنیا کو گمراہ کرنے کی مانند ہے‘۔
یونیسف کی جانب سے شائع رسالہ میں ’ہیلتھ جرنلزم کورس‘ پر روشنی ڈالتے ہوئےمعروف صحافی ڈاکٹر مظفرحسین غزالی لکھتے ہیں:
 ’’بھارت کی ترقی کو دھیان میں رکھتے ہوئے ایک خاص شعبہ صحافیوں کو ٹرینڈ کرنے کا یونیسیف کے ذریعہ یہ منصوبہ بند پیشہ وارانہ ڈولپمنٹ پروگرام ہے ۔بھامسن رائٹرس فاونڈیشن سینٹر ہندوستانیوں صحافیوں اور ماہرین تعلیم کی ٹیم کے ذریعہ تیار کئے گئے اس نصاب کا مقصد شرکا کی صحت عامہ کے بارے میں جانکاری کو بہتر بنانا ہے۔اسی کے ساتھ اس کا مقصد صحافیوں کے شواہد پر مبنی رپورٹنگ کے فن کو بھی مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ اس موضوع کو درست اور متوازن طریقے سے کور کرسکیں۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے ذریعہ تیار شدہ یہ پروگرام ضروری جانچ پرکھ (Critical Appraisal) کے تصور کے ارد گرد رکھا گیا ہے ۔یہ تصور طبی پیشہ سے جڑے لوگوں کی مدد کیلئے بنا تھا تاکہ وہ جان سکیں کہ میڈیا ٹرائل (طبی آزمائشوں) میں تیار اعداد و شمار ان کے کام کے لحاظ سے قابل اعتماد ، متعلقہ اور مفید ہیں یا نہیں۔
یہ طریقہ کار صحافت پر بھی لاگو ہوتا ہے ، یہ پروگرام حصہ لینے والے صحافیوں کو اس تصور سے متعارف کراتا ہے اور یہ سمجھنے میں ان کی مدد کرتا ہے کہ وہ اپنی روز مرہ کی رپورٹنگ میں اسے کس طرح شامل کرسکتے ہیں ۔یونیسیف کی دعوت پر بھارت کے ڈولپمنٹ صحافیوں اور اکیڈمیوں کی ٹیم ملک بھر میں اس پروگرام کو لاگو کرنے میں کلیدی کردار اداکرے گی ۔ ٹیم کے ہر ممبر کو اس کام میں صحافت کی تربیت کرنے والے طبقہ کی مدد ملے گی ، ان کی ذاتی سفارش سے اس میں شامل ہوئے اور جنہیں انہوں نے تربیت دی اور جو ملک کے مختلف اضلاع میں ورکشاپ منعقد کریں گے ۔
عوامی صحت کافی وسیع موضوع ہے اس پروگرام کا مقصد اس کے تحت سب کچھ کور کرنا نہیں ہے ، یہ نصاب اصل میں انگریزی میں تیا رکیا گیا ہے لیکن اس کا ترجمہ ہندی اور اردو میں بھی کیا جارہا ہے تاکہ ہندی اور اردو میں اسے لاگو کیا جاسکے۔ مجموعی طورپر یہ پروگرام کام کرتے ہوئے سیکھنے کے اصول اور خیال پر مبنی ہے ۔اردو ، ہندی یا انگریزی میں کام کرنے والے تمام صحافی اپنے تفتیشی اور تجزیاتی ہنر کا استعمال کرتے ہوئے عوامی صحت کے بارے میں بہتر جانکاری حاصل کرنے اور بہتر طریقہ سے کور کرنے میں اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔‘‘
 ورکشاپ میں ماہرین نے پرزنٹیشن کے ذریعہ صحافیوں کو جانچ پرکھ کر رپورٹنگ کرنے اور صحت سے متعلق خبرکیلئے جواب دہ بننے اور بنانے کا طریقہ بتایااور کہاکہ ہمارے صحافی حضرات اپنی ذمہ داریوں میں لاپروائی نہ برتیں، خاص طورپر صحت سے متعلق اگر کوئی ایسی خبر جس پر شک ہو تحقیق کے بعد ہی شائع کریں ،کیوں کہ آپ کی معمولی اور جذباتی غلطی کسی بھی انسان کی جان خطرے میں ڈال سکتی ہے ۔ انڈیا میں ہر سال ڈھائی کروڑ بچے پیدا ہوتے ہیں، ان میں لاکھوں ایسے ہیں جو غلط فہمی اور فیک نیوز کی وجہ سے بنیادی ٹیکہ اور میڈیکل سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کورونا ٹیکہ سے بہی لاکھوں لوگ اسی فیک نیوز کی وجہ سے محروم ہیں، انسانی جان کا تحفظ اور اس میدان میں ہماری کوشش ملک اور سماج کی سلامتی کیلئے ایک موثر قدم ثابت ہوگا جس کیلئے ہم سب کو بھرپورکوشش کرنی چاہئے۔
 ’آن لائن مس انفارمیشن ‘کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے مشہور صحافی مسٹر پکنج پچوری نے کہاکہ موجودہ آن لائن انفارمیشن خبر نہیں ہے ، وہ صرف ایک اطلاع ہے۔ اگر سچ بھی ہے تو اسے خبر بننے میں وقت لگتا ہے ، اطلاع کو خبر بنانے سے پہلے حقائق کی تصدیق کرنا چاہئے، کوئی ثبوت ہے یا نہیں ، بغیر تصدیق کے کسی مشکوک خبر کو شائع کرنا خبر اور صحافتی اصول کی خلاف ورزی ہے جس سے ہمیں ہر حال میں بچنے کی ضرورت ہے ۔صحت سے متعلق خبر لکھنے میں حد درجہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ،کوئی بھی غلط خبر کسی کی جان لے سکتی ہے۔ مثال کے طورپر کسی نے کسی دوا کے بارے میں کوئی خبر چلادی جو نقصان دہ ہے تو یہ پورے سماج کیلئے گمراہی پھیلانے والی بات ہوگی ، اسی کے ساتھ انہوں نے کہاکہ پریس ریلیز سے کوئی اچھی خبر نہیں بن سکتی ہے کیوں کہ اس میں یک طرفہ بات ہوتی ہے ، اس میں آزاد ذرائع نہیں ہے اور نہ ہی آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق کی گئی ہے ، انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ فیک نیوز پھیلتی ہے اور اس کو پھیلانے میں جہاں عام لوگ ہوتے ہیں ان میں بعض اہم شخصیات اور صحافی بھی ہوتے ہیں جو تصدیق کے بغیر شیئر کرتے رہتے ہیں اور بعد میں اسے حذف کردیتے ہیں۔
اترا کھنڈ کی راجدھانی دہرہ دون میں منعقد اس دوروزہ ورکشاپ میں کئی نامی گرامی اور اہم مدیران اور میڈیا اہلکاروں کے علاوہ مختلف ریاستوں سے نمائندہ صحافیوں نے شرکت کی اور اس بات کا عہد کیا کہ فیک نیوز کی روک تھام کیلئے یونیسف کی اس عملی کوشش کو وہ ہر حال میں اپنے علاقے میں نافذ کریں گے اور اس کیلئے دوسرے لوگوں کو بھی توجہ دلائیں گے ، یقینی طورپر اس طرح کے پروگرام کے دوررس اثرات کو بخوبی محسوس کیاجاسکتا ہے۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر