بھوپال: بھوپال 73واں عالمی تبلیغی اجتماع ملک میں امن و امان اور بھائی چارگی کی دعا کے ساتھ اختتام کو پہونچا۔بتایا جارہا ہے کہ اس چار روزہ اجتماع میں کم و بیش 12 لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ 
بھوپال کے عالمی تبلیغی اجتماع کا آج بروز پیر چوتھا روز تھا۔ آج اجتماع کی بعد نماز فجر ابتدا ہوئی جس میں دہلی مرکز سے آئے مولانا سعد احمد صاحب نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا میں جو آیا ہے اسے لوٹ کر اللہ کے پاس جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسمان پر ایک اور دنیا ہے جس کی زندگی کبھی ختم نہیں ہونے والی اور اس زندگی کے لیے ہونے والے فیصلے ہمارے دنیا میں کیے گئے اعمال سے ہی طے ہونے والے ہیں۔ اس لیے ہر انسان کو اپنی زندگی میں ہر پل کچھ بہتری کا ساتھ رکھنا چاہیے تاکہ آخرت کی زندگی سنور سکے۔
اپنے بیان میں مولانا سعد نے خاص طور سے خواتین پر کہا کہ خواتین کو خاص احترام، حقوق اور اس کے لیے خاص درجے رکھے گئے ہیں۔ ایک عورت ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کی شکل میں کئی طرح سے لوگوں کی زندگی کو سنوارتی ہے۔ مولانا نے کہا کہ اللہ پر یقین کرو کیونکہ اسی میں کامیابی ہے۔ کیونکہ جو کچھ کرتا ہے اللہ ہی کرتا ہے اور اس بات پر ہمیں پختہ یقین کر لینا چاہیے۔ ساتھ ہی آج اجتماع کے آخری روز مولانا سعد نے چار چار مہینے اور چالیس روز کی جماعتوں کی ترتیب بھی بنائی۔ انہوں نے کہا کہ جماعتوں میں نکلنا اور لوگوں کو اچھی بات بتانا اللہ کی رضا کا راستہ ہے۔ اپنے بیان کے بعد مولانا سعد صاحب نے صبح ساڑھے نو بجے دعا کروائی۔ اس دعا میں 12 لاکھ کے قریب فرزندان توحید نے شرکت کی۔
دعا میں مولانا سعد صاحب نے کہا کہ اے اللہ مسلمانوں کی قدم قدم پر مدد فرما، انہیں ایمان کی، اعمال کی، اخلاق کی دولت سے نواز دے۔ اے اللہ امت کی عبادت خطرے میں ہے۔ سب کچھ تیرے سامنے ہیں تو ہماری مدد فرما، تو کرم والا ہے۔ رب العالمین ہیں تو اپنے کرم سے ہماری حفاظت فرما۔ مولانا سعد نے خاص طور سے اس وقت چل رہے ہیں مدارس اور دینی اداروں کے لیے بھی خصوصی دعا کی، انہوں نے کہا کہ اے اللہ ہمارے دینی ادارے اور مدرسوں کی پوری پوری حفاظت فرما، اللہ یہ سب ہماری بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے اس لیے ہمیں سبھی کو ہر طرح کی مصیبتوں سے نکال دے۔ فضل فرما کر رحم فرما کر اے اللہ قدم قدم پر ہماری حفاظت فرما، ہماری رہنمائی فرما، اے اللہ امت مسلمہ کی حفاظت فرما، اللہ اس جہاں سے نکلنے والی جماعتوں کی قدم قدم پر رہنمائی فرما، مولانا سعد نے خصوصی طور پر ملک کے لیے دعا کرتے ہوئے فرمایا کہ اے اللہ ہمارے ملک کی قدم قدم پر حفاظت فرما، ملک میں امن وامان کا ماحول پیدا کر، آپس میں بھائی چارہ فرما، انہوں نے آخر میں کہا کہ اللہ اجتماع میں شریک ہونے والے سب ہی حضرات کو قبول فرما۔