نئی دہلی: ہائی کورٹ نے پیر کو شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق یو اے پی اے کیس میں متعدد ضمانت کی عرضیوں پر سماعت کا فیصلہ کیا۔2020 سے لے کر اب تک درجنوں انسانی حقوق کے ورکروں اور مسلم کارکنوں کو اس کیس میں سخت الزامات کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے، جب کہ کچھ کو ضمانت مل گئی ہےنیوزپورٹل ‘مکتوب میڈیا’ کی رپورٹ کے مطابقہائی کورٹ کی خصوصی بنچ جس میں جسٹس سدھارتھ مردول اور جسٹس رجنیش بھٹناگر شامل ہیں، نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے سے ہر روز دوپہر کے کھانے کے بعد معاملات کی سماعت کرے گی۔اسی بنچ نے 15 اکتوبر کو سابق اسٹوڈنٹ لیڈر وسماجی کارکن عمر خالد کی درخواست ضمانت خارج کر دی تھی جس میں ٹرائل کورٹ نے انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ہائی کورٹ نے کہا کہ اگلے ہفتے سے روزانہ دوپہر کے کھانے کے بعد معاملات کی سماعت کرے گا۔اپیل مسلم کارکنوں خالد سیفی، میران حیدر، گلفشاں فاطمہ، سلیم خان، شفا الرحمان اور شرجیل امام نے دائر کی ہے۔