دوحہ: عریب احمد صدیقی۔ قطر میں فیفا ورلڈ کپ کا آغاز اتوار کو قطری وقت کے مطابق ۵ بج کر ۴۰ منٹ اور ہندوستانی وقت کے مطابق ۸ بج کر ۲۰ منٹ پر ہوگیا ہے۔
البیعت اسٹیڈیم میں پہلا میچ میزبان قطر اور ایکواڈور کی ٹیم کے درمیان کھیلا گیا۔ ورلڈ کپ کے افتتا حی پروگرم کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل دوحہ میں یکم نومبر سے ہی مختلف النوع تہذیبی و ثقافتی پروگرام کا سلسلہ جاری تھا ان ہی پروگراموں میں اسلامی دعات کے پروگرام بھی منعقد ہوئے، ان ہی پروگراموں میں اب تک کی موصولہ خبروں کے مطابق سیکڑوں افراد حلقہ بگوش اسلام ہوچکے ہیں۔
گزشتہ روز قطر کے کٹارہ میں بھی ایک اسلامی محاضرے کا انعقاد ہوا جس میں معروف مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے خطاب کیا۔ اس پروگرام کے دوران بھی کئی شائقین فیفا نے اسلام قبول کیا ہے۔ مبلغ اسلام ڈاکٹر ذاکر نائیک کی وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ نومسلموں کو کلمہ طیبہ کا ورد کرارہے ہیں۔
قطر کے سرکاری اسپورٹس چینل الکاس کے ٹی وی پریزینٹر فیصل الہجری نے ٹوئٹر پر لکھا، "مبلغ شیخ ذاکر نائیک ورلڈ کپ کے دوران قطر میں ہیں اور پورے ورلڈ کپ میں بہت سے مذہبی لیکچر دیں گے۔ دریں اثناء شیخ فیصل الہاشمی کی پوسٹ کے مطابق ۵۵۸ افراد اسلامی محاضروں کے پروگراموں کے دوران مذہب اسلام کی حقانیت و آفاقیت سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوچکے ہیں۔ 
واضح رہے کہ قطر نے فیفا ورلڈ کپے کے دوران اسلامی اقداروروایات پر مبنی اصول مرتب کیے ہیں جس میں شراب پر پابندی ہم جنس پرستوں کے جھنڈا لہرانے پر روک کے ساتھ ساتھ خواتین کے لیے مکمل پردے کا اہتمام بھی لازم ہے۔ ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، نائب صدر جمہوریہ ہند جگدیپ دھنکھڑ، ولی عہد عمان، شاہ اردن، مصری صدر السیسی، شیخ دبئی وغیرہ نے شرکت کی۔ 
امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ امانیہ کے ہم جنس پرست کی ترجمانی والی تصویر جہاز پر آویزاں تھی اسے قطر کے حدود میں داخل ہونے پر اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وہیں اسرائیلوں کو فلسطینی رجسٹرڈ کرائے بنا شائقین کو داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
بتادیں کہ قطر فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کرنے والا مشرقِ وسطیٰ کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پہلی بار فیفا ورلڈکپ کے انعقاد پر قطر دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال ایونٹ کے شائقین کا بہترین انداز میں خیر مقدم کر رہا ہے۔ قطر ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل ہی پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی احادیث کی نمائش کرکے دنیا بھر سے قطر آنے والے فٹبال کے شائقین کو’اسلام‘ سے بھی متعارف کروا رہا ہے۔ نیک اعمال، خیرات، اور رحم کرنے کے بارے میں نبی کریمﷺ کی احادیث پر مشتمل بہت ساری پینٹنگز کو قطر کی سڑکوں پر آویزاں ہیں۔ یکم نومبر سے اب تک جتنے بھی پروگرام ہوئے ہیں اذان کے دوران تمام تقریب روک دی جاتی ہیں تمام اسٹیڈیم میں نماز کی جگہ اور وضو کے پانی کا اہتمام کیا گیا ہے۔
فیفا ٹورنامنٹ کا پہلا میچ میزبان قطر اور ایکواڈور کے درمیان البیعت اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ فیفا ورلڈ کپ میں کُل 32 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن میں سے 64 میچ کھیلے جائیں گے۔ ٹورنامنٹ کے لیگ مرحلے میں کُل 48 میچز کھیلے جائیں گے جس میں ٹاپ 16 ٹیمیں اگلے راؤنڈ میں جائیں گی۔ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والے ٹورنامنٹ کا فائنل میچ 18 دسمبر کو کھیلا جائے گا۔

دوسری جانب افتتاحی تقریب میں عربی ثقافت کے رنگ پیش کیےگئے، افتتاحی تقریب کے باقاعدہ  آغاز  سے قبل ایک ویڈیو  میں سمندر کے  اندر،  وہیل اور شارک مچھلیوں کو تیرتے دکھایا گیا، تقریب کے آغاز پر اُونٹ اور فنکاروں نے رقص کیا۔ ورلڈ کپ میں شریک ٹیموں کے جھنڈوں کے ساتھ بھی فنکاروں نے پرفارمنس پیش کی، پھر ورلڈ کپ فٹ بال کا آفیشل میسکوٹ میدان میں لایا گیا۔

جنوبی کوریا کے مشہور زمانہ میوزک بینڈ، بی ٹی ایس  کے سنگر جونگ کوک نے قطر کے معروف فنکار فہد الخوبیسی کے ہمراہ ورلڈ کپ کے آفیشل گانے  ڈریمرز  پر  پرفارم کیا۔
قطرکے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے ورلڈکپ کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کیا، افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فٹبال ورلڈکپ ایونٹ نے آج  تمام قومیتوں، عقیدوں کو  ایک جگہ جمع کر دیا، قطر اور عرب دنیا کی طرف سے ورلڈکپ 2022 میں سب کا خیر مقدم کرتے ہیں۔