قابل ذکر ہے کہ عمر خالد کے ذریعہ داخل ضمانت عرضی معاملہ میں سماعت کرتے ہوئے عدالت نے 7 دسمبر کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ آج اس سلسلے میں فیصلہ سنایا گیا۔ واضح رہے کہ عمر خالد دہلی فسادات سے متعلق کئی معاملوں میں ملزم بنائے گئے ہیں۔ فروری 2020 میں قومی راجدھانی دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں تشدد بھڑک گیا تھا۔ یہ تشدد سی اے اے-این آر سی کی مخالفت میں چل رہے مظاہرہ کے دوران ہوا تھا۔ اس تشدد نے فرقہ وارانہ فسادات کی شکل اختیار کر لی تھی۔ اس دورنا مجموعی طور پر 53 لوگوں کی موت ہوئی تھی اور 700 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ عمر خالد کو ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ جیل میں ہیں۔