دیوبند: سمیر چودھری۔
نامور صحافی اور روزنامہ’ ہمارا سما ج‘ دہلی کے ایڈیٹر عامرسلیم خان کا علالت کے باعث آج دوپہر تقریباً 48 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ انہیں دو دن قبل دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ جہاں پیر کی دوپہر دورانِ علاج انہوں نے آخری سانس لی۔ان کے انتقال کی خبر سے ملی، سماجی، علمی اور صحافتی حلقوں کی فضاءمغموم ہوگئی، سوشل میڈیا کے توسط سے نامور شخصیات اور دانشو ران و صحافی حضرات عامر سلیم کے اچانک انتقال پر گہرے رنج و الم کا اظہار کررہے ہیں اور ان کی صحافتی خدمات کی ستائش کررہے ہیں۔
دیوبند کے سینئر صحافی اور ہمارا سماج کے ضلع بیور چیف رضوان سلمانی نے عامر سلیم کے انتقال کو اردو صحافت، اپنے اخبار اور اپنے لئے ذاتی خسارہ بتایا اور انتہائی رنجیدہ لہجہ میں کہاکہ عامر سلیم جیسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں، جو اپنے بڑوں کے احترام کے ساتھ ساتھ چھوٹوں سے ہمیشہ شفقت و محبت کامعاملہ کرتے ہیں، ایک بہترین قلمکار اور سینئر صحافی ہونے کے باوجود ہمیشہ مجھ سے بھائی جیسا تعلق اور معاملہ رکھا، ہمارا تقریباً13 سال تک ساتھ سفر رہاہے۔ رضوان سلمانی نے کہاکہ عامر بھائی کا شمار اردو کے قابل احترام صحافیوں میں ہوتا تھا، انہوں نے دیگر اخبارات کے ساتھ ہمارا سماج میں چیف رپورٹر سے لیکر دہلی ایڈیشن کے ایڈیٹر تک اپنی صحافت کے بہترین جوہر دکھائے اور ملک و ملت کے سلگتے مسائل پر بے باک انداز میں لکھا،وہ ایک خوش اخلاق، بے لوث ذمہ دار صحافی جو ملکی و ملی سیاست و سماج دونوں پر باریک نگاہ رکھتے تھے ان کااس طرح اچانک چلے جانااردو صحافت، ہمارا سماج اور میرے لئے ذاتی تکلیف کا باعث ہے، اللہ تعالی عامر سلیم کی مغفرت فرمائے اور انکے جملہ متعلقین کو صبر جمیل عطا کرے۔
سینئر صحافی اشرف عثمانی نے کہاکہ عامر سلیم خان اردو کے نامور صحافی تھے، ایک لمبے عرصے سے اردو صحافت سے وابستہ رہے۔ اردو صحافت میں اپنے قلمی کاوشوں کے باعث قومی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا تھا، کم عمری میں اس طرح ان کا اچانک چلے جانا اردو صحافت کا عظیم خسارہ ہے، عامر سلیم خان کو ابھی بہت کچھ کرنا باقی تھا، لیکن اللہ کی مرضی کے آگے ہر چیز بے بس،اللہ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
سینئر صحافی ڈاکٹر شاہد زبیری نے کہاکہ عامر سلیم خان صحافت کے اونچے مقام پر ہونے اور صاف ستھری صحافت کا اچھا تجربہ رکھنے کے باوجود انکے اندر انکساری اور تواضع کا ہونا انہیں بہت سے صحافیوں سے ممتاز اور جدا کرتا ہے۔اللہ انکی مغفرت فرمائے ، یقینا انکی وفات سے صاف ستھری اردو صحافت کو عظیم خسارہ ہوا ہے۔ نامور عالم دین مولانا ندیم الواجدی نے عامر سلیم کے انتقال پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ عامر سلیم خان صاحب کا انتقال اردو صحافت کا بہت بڑا خسارہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ وہ ملت کے مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور ان ایشوز پر خبریں لکھتے تھے جسے عمومانظر انداز کردیاجاتاہے۔ حالیہ دنوں میں اردو کے وہ ایسے صحافی تھے جو ملت اسلامیہ ہند کے مسائل پر بیباکی کے ساتھ اسٹوریز کررہے تھے۔ ملی تنظیموں اور مسلم لیڈروں کے تعلق سے ہمیشہ مثبت رخ اختیار کرتے تھے۔ ہمارا سماج میں اداریہ بھی اہم مسائل پر تحریر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان صبر جمیل عطاءفرمائے۔علاوہ ازیں شبیر شاد، فہیم اختر صدیقی، سمیر چودھری، عارف عثمانی، فیروز خان اوراطہر عثمانی سمیت دیوبند و سہارنپور کی صحافی برادری نے عامر سلیم خان کے اچانک انتقال پر افسوس کاظہار کیا اورکہاکہ عامر سلیم اپنی زندہ دلی، خوش گفتاری اور بے باک رپورٹنگ کی وجہ سے بہت مقبول تھے، کام کے تئیں ایماندار اور جری تھے، انہوں نے کبھی حالات سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی رپورٹنگ اور تجزیے صحافتی تقاضوں پر کھرے اترتے تھے یقینی طورپر انکے یوں چلے جانے سے ایک خلا پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالی عامر سلیم کی مغفرت فرمائے اور انکے جملہ متعلقین کو صبر جمیل عطا کرے۔
ادھر جامعہ امام محمد انور شاہ کے مہتمم مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی،کل ہند تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے نائب ناظم مولانا شاہ عالم گورکھپور ی اور آل انڈیا ملی کونسل کے ضلع صدر مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے مرحوم کے لئے انتقال پر گہرے رنج و الم کااظہار اور پسماندگان سے تعزیت مسنونہ پیش کی۔