نئی دہلی: مودی حکومت نے کہا کہ مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ یعنی اقلیتی برادریوں کے طلباء کے لیے اسکالرشپ کو اس تعلیمی سال 2022-23 سے بند کر دیا گیا ہے۔ اقلیتی امور کی وزیر اسمرتی ایرانی نے لوک سبھا میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ٹی این پرتھاپن کے سوال کے جواب میں اس کا اعلان کیا۔
مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ (ایم این اے ایف) اسکیم، جو کہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وقف ہے اس پر ایرانی نے کہا کہ "حکومت کی جانب سے نافذ کی جانے والی اعلیٰ تعلیم کے لیے مختلف دیگر فیلوشپ اسکیموں کے ساتھ اوورلیپ ہو رہی ہیں اور اقلیتی طلبہ پہلے ہی اس طرح کی اسکیموں کے تحت شامل ہے، اس لیے حکومت نے 2022-23 سے مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ اسکیم کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے"۔
اپنے جواب میں، ایرانی نے مزید کہا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2014-15 اور 2021-22 کے درمیان فیلو شپ اسکیم کے تحت 738.85 کروڑ روپے کی مجموعی تقسیم کے ساتھ 6,722 امیدواروں کا انتخاب کیا گیا۔
2009 میں شروع کی گئی، مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ نے چھ مطلع شدہ اقلیتی برادریوں- بدھ مت، عیسائی، جین، مسلمان، پارسی اور سکھوں کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کے لیے پانچ سالہ مالی امداد فراہم کی۔ فیلوشپ کا دائرہ ہندوستان میں باقاعدہ اور کل وقتی تحقیق کرنے والے اقلیتی طلباء کو مدد فراہم کرنا ہے، اور اس میں اسسٹنٹ پروفیسرز کے تحقیقی منصوبے شامل ہیں۔
اس اسکیم میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے ذریعہ تسلیم شدہ تمام یونیورسٹیوں/ اداروں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ سچر کمیٹی کی سفارشات کے بعد شروع کی گئی تھی، جس نے ہندوستان میں مسلم طلباء کے سماجی و اقتصادی حالات کا مطالعہ کیا تھا۔
اسے "ناانصافی" قرار دیتے ہوئے، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ٹی این پرتھاپن نے کہا کہ اس اقدام سے بہت سے طلباء کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ختم ہو جائے گی۔ نہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔
غور طلب ہے کہ حال ہی میں مرکز کی مودی حکومت نے یوپی کے مدارس میں پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت کے طالبہ کو ملنے والی اسکولرشپ کو بھی بند کرنے کا اعلان کردیا تھا۔