جالے: محمد رفیع ساگر۔
سنگھواڑہ تھانہ علاقہ کے نگر پنچایت بھرواڑہ کے خراجی تالاب میں زہریلا مادہ ملانے سے تالاب کی مچھلیاں مر گئیں۔ اس واقعہ میں 6 لاکھ سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ اس معاملے کو لے کر ماہی گیر ونود سہنی نے دوسرے ماہی گیر راہل سہنی اور بھرواڑہ کے 5 نامعلوم لوگوں پر تالاب میں زہریلی چیز ملانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت تالاب کا کرایہ دار ہے دو تین دن پہلے راہل سہنی خراجی تالاب کے قریب آیا اور کہا کہ میں نے اس تالاب کو پہلے ہی لیز پر لیا تھا اگر آپ خراجی پوکھر میں فش فارمنگ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو 50 ہزار بھتہ دینا پڑے گا ورنہ نتیجہ برا ہوگا۔ ماہی گیر ونود سہنی 11 دسمبر کی رات تقریباً 11 بجے تالاب کی حفاظت کر رہے تھے اسی دوران ملزم راہل سہنی اپنے پانچ نامعلوم ساتھیوں کے ساتھ آیا اور ونود سہنی کو گالی دیتے ہوئے کہا کہ رنگداری نہیں دی گئی تو اب تمہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا جس کے بعد ملزم نے تالاب میں زہریلی چیز ملا دی جب تک ونود سہنی کچھ کر پاتے، ملزم اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گیا۔ ونود سہنی کا کہنا ہے کہ پانچ ماہ قبل بھی راہل سہنی نے تالاب میں زہریلی چیز ملا دی تھی واقعے کی اطلاع مقامی پولیس اسٹیشن کو دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تالاب کی مچھلیاں زہریلی چیز کی آمیزش سے مر گئی ہیں جس کی وجہ سے چھ لاکھ سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ تھانہ صدر منیش کمار نے کہا کہ ایف آئی آر درج کرکے جانچ تیز کردی گئی ہے۔