ممبئی: پریس ریلیز۔ 
آج کل ہندوستان کے جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں، ملک میں اقلیتیں خصوصا مسلمان جس طرح کے حالات سے دوچار ہیں وہ بھی اہل نظر سے مخفی نہیں ہیں۔ غربت، بے روزگاری، ہمارے تعلیمی اور سماجی مسائل نیز مسلم پرسنل لاء پر مسلسل منڈلاتے ہوئے خطرات، یونیفارم سول کوڈ، نام نہادلو جہاد وغیرہ پر سخت ظالمانہ قوانین اور ارباب اقتدار کی پشت پناہی کی وجہ مسلمانوں کی مقدس شخصیات کی شان میں ہونے والی گستاخیاں۔ ایسے حالات میں ہونا تو یہ چاہیے تھے کہ مسلمان وحدت قبلہ اور وحدت کلمہ کی بنیاد پر متحد ہوکر حالات کا مقابلہ کرتے اور اپنے جمہوری اور انسانی حقوق کی بحالی کے لئے حکومتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال قانونی و جمہوری جدوجہد میں حصہ لیتے۔ مگر افسوس اِن حالات میں بھی کچھ لوگ اپنے ذاتی مفاد کے لئے مسلمانوں کے درمیان مسلکی اختلاف پھیلانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ماہم ممبئی کے کاپڑ بازار میں واقع سوسالہ قدیم قاضی مسجد میں عرصہ سے کچھ لوگ اس طرح کی مذموم کوشش کررہے ہیں، حالانکہ تمام مسلک کے علماء کرام اور سرکردہ افراد نے ایسی کوششوں کی مذمت کی ہے اور تمام شرپسند عناصر کو اس حرکت سے باز آنے کی نصیحت بھی کی ہے۔
اسی سلسلے میں ممبئی امن کمیٹی کرافورڈ ممبئی میں آج کی پریس کانفرس ہوئی اس میں مختلف مسالک کے نمائندہ علماء و خواص اور ملی تنظیموں کے نمائندے موجود ہیں جو قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے تمام عناصر جو ملت کے اندر مذہبی، مسلکی اور طبقاتی اختلافات کو بڑھاوا دینے کی کوشش کرتے ہیں، ان سے خود بھی ہوشیار رہیں، دوسروں بھائیوں کو بھی اس شرپسندی کا شکار ہونے سے بچائیں اور ایسے ناہنجار لوگوں کو اپنے عوام کے سامنے بے نقاب بھی کریں تاکہ سادہ لوح عوام ان کے جال میں پھنسنے سے بچ سکے۔ یہ ہمارے لئے بہت نازک وقت ہے، اس وقت ہمیں مومنانہ حکمت و بصیرت سے کام لے ملک میں اپنے وجود، اپنے حقوق اور اپنی شناخت کے لئے متحد ہوکر جدوجہد کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
پریس کانفرنس سے مولانا محمود احمد خاں دریابادی جنرل سکریٹری آل انڈیا علماء کونسل، شیعہ عالم دین مولانا ظہیر عباس رضوی، مولانا انیس احمد اشرفی صدر رضا فاؤنڈیشن، فرید شیخ صدر امن کمیٹی، ڈاکٹر سلیم خان نائب صدر جماعت اسلامی ممبئی، حافظ اقبال چونا والا، شاکر شیخ وغیرہ نے خطاب کیا۔