میرٹھ: اتر پردیش میں سی اے اے (شہریت ترمیمی قانون) کو لیکر احتجاج کرنے والوں کے خلاف پہلی سزا دینے کا فیصلہ آیا ہے۔ میرٹھ ٹریبونل نے سماعت کے دوران 86 ملزمان کو سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا قصوروار ٹھہرایا۔ ٹریبونل نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے معاملے میں 4.27 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ 
بتا دیں کہ یہ معاملہ امروہہ میں سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصان کا ہے۔
امروہہ میں تقریباً تین سال قبل احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اترپردیش پبلک اور پرائیویٹ پراپرٹی ڈیمیج ریکوری کلیمز ٹریبونل کورٹ نے میرٹھ میں یہ فیصلہ دیا ہے۔
دسمبر 2019 میں امروہہ میں سی اے اے کے حوالے سے شدید احتجاج ہوا تھا، جس کے دوران سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا، اس معاملے میں مقدمہ نمبر 814/19 قائم کیا گیا تھا، جس میں متعدد افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ ریکوری کے لیے پولیس نے کلیمز ٹریبونل، میرٹھ میں اپیل کی تھی، دونوں فریقوں کو سننے کے بعد عدالت نے 86 افراد کو ملزم مانتے ہوئے ریکوری کا حکم دیا ہے، عدالت کے فیصلے کے مطابق 86 ملزمان سے 427439 روپے وصول کیے جائیں گے، جس میں ہر ایک کو 4971 روپے کا جرمانہ ہر شخص سے لیا جائیگا۔
اگر کوئی ملزم یہ جرمانہ 30 دن کے اندر جمع نہ کرا سکے تو اس کے بعد 6 فیصد سود لے کے ساتھ وصولی کی کل رقم جمع کرائی جائے گی۔ تاہم ان 86 ملزمان میں سے 3 ملزمان ایسے ہیں جن کا کوئی پتہ معلوم نہیں ہیں۔ ایسے میں ان تینوں ملزمان کے پوسٹر پرنٹ کرکے چسپاں کرنے کو کہا گیا ہے، تاکہ ان ملزمان کے بارے میں معلومات اکٹھی کرکے ریکوری کی جاسکے۔

سمیر چودھری۔