دیوبند: سمیر چودھری۔
معروف قدیم دینی ادارہ مدرسہ اصغریہ دیوبند کے مہتمم اور دیوبند کے مشہور سادات خاندان کی ممتاز شخصیت مولانا ڈاکٹر سید جمیل حسین میاں دیوبند ی کا آج دوپہرعلالت کے باعث انگلینڈ کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیاہے۔ ان کے انتقال کی خبر سے علمی حلقوں کی فضاء مغموم ہوگئی۔ مرحوم گزشتہ کچھ دنوں سے انگلینڈ کے دعوتی و اصلاحی دورہ پر تھے۔ جہاں گزشتہ24 دسمبرکو پیٹ میں انفیکشن کے سبب اُنہیں برمنگھم شہر کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا ، جہاں77 سال کی عمر میں ان کا انتقال پرُملال ہوگیا۔
مرحوم انتہائی متحرک و فعال شخصیت کے مالک تھے، طویل عرصہ تک جامعہ طبیہ دیوبند کے پرنسپل کے عہدہ پر رہے اور بطور طبیب بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں لیکن گزشتہ تقریباً 20 سال سے مدرسہ اصغریہ کے اہتمام کے ساتھ ساتھ تبلیغی جماعت کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
علیگڑہ یونیورسٹی سے بی یو ایم ایس ڈاکٹر سید جمیل حسین نے محلہ قلعہ پر اپنے کلینک سے عرصہ دراز تک غریب و نادار افراد کا مفت علاج کیا، اب یہ خدمات ان کے صاحبزادے مولانا ڈاکٹرسید تجمل حسین انجام دے رہے ہیں۔ ان کا انتقال یہاں کے علمی، دینی، اصلاحی اورسماجی و سیاسی لوگوں کے لئے گہرے صدمہ کا باعث ہ، وہیں دیوبند سمیت اطراف اور ملی حلقوں میں بھی رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ ان کے انتقال کی خبرملتے ہی محلہ قلعہ پر واقع ان کی رہائش گاہ پر علماءکرام، سیاسی اور سماجی شخصیات سمیت شہر کے سرکردہ لوگوں کا تعزیت کے لئے تانتا لگ گیا۔ 
ملک کی نامور ملی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے ان کے انتقال کو دیوبند کی تاریخ کے ایک باب کا خاتمہ قرا ردیا ہے۔ اپنی وضع کے انوکھے انسان، معروف معالج مولانا ڈاکٹر سید جمیل حسین دارالعلوم دیوبند کے سابق محدث مولانا سید اصغر حسین میاں صاحب کے پوتے اور مولانا سید خلیل حسین میاں صاحبؒ کے چھوٹے بھائی تھے۔ سفر میں مرحوم کے ہمران ان کے بڑے فرزند مولانا سید تجمل حسین میاں نائب مہتمم مدرسہ اسلامیہ اصغریہ نے بتایاکہ حضرت والد مرحوم کی تدفین انگلینڈ (برمنگھم ) میں ہی کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔
مرحوم کے بھتیجے مولانا سید عقیل حسین میاں دیوبندی نے اپنے چچا محترم کے انتقال پر نہایت رنج و الم کا اظہار کیا اور کہاکہ مرحوم کی شفقتوں اور محبتوں کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتاہے۔ مرحوم کے انتقال پر دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی، دارالعلوم وقف دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی ،صدر المدرسین مولانا سید ارشد مدنی، جمعیۃ علماءہندکے صدر مولانا سید محمود مدنی، نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی، دارالعلوم وقف دیوبند کے نائب مہتمم مولانا ڈاکٹر شکیب قاسمی، رکن شوریٰ مولانا سید انظر حسین، دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی شریف خان قاسمی، ممتاز عالم دین مولانا ندیم الواجدی، جامعۃ  الشیخ حسین احمد مدنی کے مہتمم مولانا مزمل علی قاسمی، کل ہند رابطہ مساجد کے جنرل سکریٹری مولانا عبداللہ ابن قمر الحسنی، آل انڈیا ملی کونسل کے ضلع صدر مولانا عبدالماک مغیثی، مولانا سید نجم الحسن تھانوی، مولانا شاہ عالم گورکھپوری، جامعہ قاسمیہ کے مہتمم مولانا ابراہیم قاسمی، عالمی شہرت یافتہ شاعر ڈاکٹر نواز دیوبندی، نامور قلم کار سید وجاہت شاہ، مسلم فنڈ دیوبند کے منیجر سہیل صدیقی، مفتی عارف قاسمی، جامعہ طبیہ دیوبند کے سکریٹری ڈاکٹر انور سعید، ڈاکٹر اختر سعید، سعد صدیقی، قاری عامر عثمانی، نسیم انصاری ایڈووکیٹ، تحسین خان ایڈووکیٹ، سابق چیئرمین انعام قریشی ، سابق رکن اسمبلی معاویہ علی، حاجی فیروز خان، مولانا سالم اشرف قاسمی، چیئرمین ضیاءالدین انصاری، مولانا ڈاکٹر عبید اقبال عاصم ، روحانی عامل فہیم عثمانی، مولانا دلشاد قاسمی وغیرہ نے گہرے رنج وغم کااظہار کیا۔