ڈاکٹر شاہد زبیری۔
18دسمبر کو عالمی سطح پر یومِ اقلیتی حقوق منایا جاتا ہے جو یواین او کے 1992کے اعلامیہ کے مطابق ہے ۔ اقلیتوں میں مذہبی ، لسانی اور نسلی اقلیتوں کا شمار ہوتا ہے، اقلیتیں خواہ مذہبی ہوں کہ لسانی یا نسلی اور وہ دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کسی بھی برِِّ اعظم سے یا کسی بھی ملک سے تعلق رکھتی ہوں خواہ وہ عرب ہو کہ عجم مغرب ہو کہ مشرق ہر خطئہ ارض میں اکثریت کے جبر اور استحصال کا شکار رہتی ہیں اس معاملہ میں کسی بھی ملک کا دامن پاک نہیں جسکی تفصیل کا یہاں موقعہ نہیں۔اگر ہم اپنے ملک کی اقلیتوں کی بات کریں تو بلا شبہ ہماری آئین ساز کمیٹی نے جو آئین بنایا اسمیں ہر ممکن طریقہ پر مذہبی، لسانی اقلیتوںکے آئینی حقوق کی پختہ گارنٹی دی گئی ہے ۔ ہر چند کہ اقلیت کی اصطلاح ایک اضافی نسبتی صفت ہے جو ہندوستان کے سیاق وسباق میں مذہبی اور لسانی گروہ یا طبقہ کی حیثیت سے تعلق رکھتی ہیں ۔ماہرین قانون کے مطابق اقلیت کی اصطلاح ابھی تک کسی بھی قانو نی لغت اور کسی بھی ایکٹ میں نہیں ہے ۔بی جے پی کے سابق قومی صدر اور سابق وزیر مرلی منو ہر جو شی نے 2012میں کانگریس کی حکومت کے دوران رزرویشن پر تنقید کرتے ہوئے اقلیت کی اصطلاح کی تعریف کا تعیّن کئے جانیکی بحث چھیڑی تھی لیکن جو آگے نہیں بڑھی۔
بات کانگریس سرکار کی آئی تو یہ بھی دھیان رہیکہ کانگریس کی حکومت نے ہی مسلم اقلیت کے مسائل کا جا ئزہ لینے کیلئے سابق جسٹس راجندر سچر کی سربراہی میں سچر کمیٹی کی تشکیل کی تھی جس نے 400سے زائد صفحات کی اپنی تفصیلی رپورٹ میں جہاں بہت سی سفارشات پیش کی تھیں ان میں ایک سفارش یہ بھی تھی کہ مسلمانوں کی تعلیمی ،سماجی اور معاشی پسماندگی دور کر نے کیلئے اعلیٰ تعلیم اور ریسرچ کیلئے سرکار وظیفہ دے چنانچہ اسی کے پیش ِ نظر کانگریس کی منموہن سرکار نے 2009میں مولا نا آزاد نیشنل فیلو شپ برائے اقلیت کو لانچ کیا تھا اور سچر کمیٹی کی سفارش کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ملک کے دوسری بڑی اکثریت اور مذہبی اقلیت مسلمانوں کیساتھ ساتھ ملک کی دگر 5اقلیتوں سکھ ،عیسائی ،جین ،بودھ اور پارسییوں کو بھی اس فیلو شپ کے دائرہ میں رکھا گیا ۔یہ فیلوشپ اقلیتی طبقات کے ان طلبہ کو دیجاتی رہی ہے جو پی ایچ ڈی /ایم فل کر نا چاہتے ہیں اور جن کے والدین کی سالانہ آمدنی 6لاکھ سے زائد نہیں ۔فیلو شپ کی ویب سائٹ کے مطابق مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ ( MANF )کے تحت 10,000 سے 28ہزار تک کا ماہانہ وظیفہ ایک طالب علم کو دیا جاتا رہا ہے ۔اس کیلئے 750ان کیلئے جو یو نورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) نیٹ (NET) کے تحت آنے والے سبجیکٹ جیسے نیشنل ابیلیٹی ٹیسٹ ( اہلیتی ٹیسٹ ) فار جونیر ریسرچ فیلوشپ JRF)) اور اسسٹینٹ پروفیسر کی اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر لئے جاتے ہیں باقی 250سی ایس آئی آر ا-یوجی سی ٹیسٹ کے ذریعہ بیسک سائنس کے تحت NETوالوں کیلئے ہے۔
 فیلو شپ کا تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب بی جے پی کے کیرلہ کے ایم پی کے ذریعہ پوچھے گئے سوال پر پارلیمینٹ کے سرمائی اجلاس میں 8دسمبرکو وزارتِ اقلیتی امور ) Union Ministry Of MynortyAffairs) کی وزیر سمرتی ایرانی کیطرف سے دئے گئے بیان میں دوسری فیلو شپ پر اوور لیپ کا عذر پیش کرتے ہوئے اس کو فیلو شپ کو بند کرنیکی بات کہی لیکن اس کا کوئی ڈاٹا کوئی تفصیل اقلیتی امور کی وزیرصاحبہ نے پیش نہیں کی جس کے بعد سڑک سے سنسد تک احتجاج کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں ۔12 دسمبر کو دہلی کے شاستری بھون میں اسٹوڈینٹس یونین AISAکے بینر تلے جامعہ ملّیہ اسلامیہ ، جواہر لال یو نیورسٹی اور دہلی یو نیورسٹی سمیت کئی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ سڑک پر اتر آئے اور ملک کے دگر حصّوں کے تعلیمی اداروں اور یو نیورسٹیوں میں بھی طلبہ تنظیموں اور اقلیتی طلبہ کی تنظیموں نے مرکزی حکومت کی اس صریح نا انصافی اور اقلیتوں کی حق تلفی کیخلاف آواز بلند کی اور زبردست احتجاج درج کرا یا احتجاج کرنے والے طلبہ میں سے اکثر طلبہ کو مبیّنہ طور پولس نے حراست میں بھی لیا ۔بات یہیں تک نہیں رکی پارلیمینٹ میں بی ایس پی کے امروہہ سے ایم پی کنور دانش علی ، آسام سے یو ڈی ایف کے ایم پی اور یو ڈی ایف کے سربراہ مولانا بدرالدّین اجمل ،مجلس اتحاد المسلمین کے مہاراشٹر سے ایم پی امتیاز جلیل ور راجیہ سبھا کے رکن کانگریس کے عمران پرتاپ گڑھی نے انتہائی موئثر اور مضبوط انداز میں اس ایشو پر اپنی بات رکھی اور اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے مرکزی حکو مت کو آڑے ہاتھوں لیا اور حکومت پر اقلیتوں کیساتھ امتیاز برتے جانے کے الزامات لگا ئے اور اقلیتی فرقہ کے طلبہ پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کئے جانے پر شدید ناراضگی جتائی لیکن نہ جا نے کس مصلحت کی بناءپرہماری ملّی تنظیمیں حسبِ سابق اس اہم ایشو پر بھی خاموش رہیں دگر اقلیتوں کے لیڈران کیطرف سے بھی کسی لیڈر یا ایم پی کا بیان ہماری نظر سے نہیں گذرا اور مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا مرثیہ پڑھنے اور طعنہ دینے والے نام نہاد دانشوروں کے لبوں پر بھی مہر لگی ہوئی ہے ۔افسوس یہ کہ اردو اخبارات نے بھی حکومت کے اس امتیازی رویّہ پرگرفت نہیں کی جوکیجا نی چاہئے تھی ۔ طلبہ تنظیموں کے احتجاج کے خوف سے حکومت کیطرف سے مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے 14دسمبرکو رواں پارلیمانی اجلاس میں مورچہ سنبھالا اور کہا کہ اس مسئلہ پر طلبہ کو گمراہ کیا جا رہا ہے انہوں نے مرکزی حکومت کیطرف سے صفائی دی کہ جن طلبہ نے 31مارچ 2022سے پہلے( MANF) کے لئے اپلائی کیا ہے اور وہ اس کیلئے اہل پائے گئے ہیں ان کو انکی ریسرچ کی مدّت ِکار یعنی 5سال تک اس فیلو شپ کے تحت یہ ماہانہ وظیفہ کی رقم دی جا تی رہیگی اس پر کوئی پابندی نہیں لیکن وزیرِ خزانہ نے حسبِ عادت الفاظ کے گو رکھ دھندے کا سہارا لیا اور صاف طو ر پر اور واضح طور پر یہ نہیں بتا یا کہ وزارتِ اقلیتی امور نے جو پابندی فیلو شپ پر لگا ئی ہے وہ برقرار ہیگی یا پابندی نہیں لگا ئی گئی اور فیلو شپ آئندہ سالوں میں بھی حسب سابق برقرار رہیگی یہ پوری طرح اب بھی واضح نہیں ہے ۔ اگر سمرتی ایرانی صاحبہ کے پالیمینٹ میں دئے گئے سرکاری بیان کو سامنے رکھا جائے تو یہی سمجھا جائیگا کہ پابندی برقرار ہے جس سے حکومت کی' نیّت اور نیتی' دونوں پر شک ہوتا ہے اور یہ الزام درست نظر آتا ہیکہ بی جے پی حکومت اقلیتوں بالخصوص مسلم اقلیت پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کرنا چاہتی ہے اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ رکھنا چاہتی ہے ، ترقی کی راہ گامزن دیکھنا نہیں چاہتی ، باقی اقلیتیں جین، سکھ، عیسائی، بودھ اور پارسی عموماًًخوشحال ہیں ان کو اس فیلو شپ کی اتنی ضرورت نہیں جتنی مسلم اقلیت کے طلبہ کو ہے۔
قابلِ زکر ہیکہ اقلیتی امور کی وزیر ِ محترمہ نے اپنے بیان میں فیلو شپ کے حوالہ سے اعدادو شمار بتا تے ہوئے کہا تھا کہ 2014-15سے 2021-22تک کل 6,722طلبہ و طالبات کو اس فیلو شپ کے تحت 738.85کروڑ کی رقم دی گئی ہے ۔ کانگریس کی سرکار میں جو رقم فیلوشپ کیلئے سالانہ دیجا تی رہی وہ کتنی تھی کیا بی جے پی کی مرکزی سرکار میں کانگریس دورِ حکو مت کے مقابلہ رقم میں اضافہ کیا گیا ہے یا تخفیف کی گئی ہے یہ دیکھنا باقی ہے ۔یہ بھی عجیب اتفاق ہیکہ دنیا بھر میں بشمول ہندوستان ،18دسمبر کو'عالمی یومِ اقلیتی حقوق 'منائے جانیکی رسم ادا کیجا تی ہے اس تاریخ سے ٹھیک 10دن پہلے 8دسمبر کو مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کا تنازع کھڑا کیا گیا ۔ بلا شبہہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کی وزارتِ اقلیتی امور کیطرف سے فیلو شپ پر لگا ئی گئی اس پابندی سے اقلیتوں کی حق تلفی ہوتی ہے جو نہیں ہو نی چاہئے جبکہ مرکزی سرکار کا دعویٰ ہیکہ' سبکا ساتھ سبکا وکاس اور سبکا وشواس ا ب اگر قلیتوں کے وشواس کو ٹھیس پہنچتی ہے تو اقلیتوں کے حوالہ سے یہ نعرہ کھوکھلا ہی کہا جا ئیگا۔