لکھنو:  اپوزیشن اتحاد کے امکانات کو بظاہر ختم کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور بی ایس پی سپریمو مایاوتی کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کی ‘بھارت جوڑو یاترا’ میں حصہ نہیں لیں گے۔ ان دونوں لیڈروں کو راہل گاندھی نے یاترا میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔ 
کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا 3 جنوری کو یوپی میں داخل ہوگی۔ کانگریس کے ترجمان کرشن کانت پانڈے نے بتایا تھا کہ ریاستی کانگریس کمیٹی کی جانب سے یوپی کی تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو یاترا میں شرکت کی دعوت دی جارہی ہے۔ کرشن کانت پانڈے نے بتایا تھا کہ اکھلیش یادو اور مایاوتی کے علاوہ جن لیڈروں کو یاترا میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے ان میں سابق وزیر شیو پال یادو، آر ایل ڈی کے صدر جینت چودھری، سبھاسپا کے صدر اوم پرکاش راج بھر، سی پی آئی کے قومی سکریٹری اتل انجان اور بی ایس پی کے تمام اپوزیشن جماعتوں کے رہنما شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق کانگریس سماج وادی پارٹی کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنا چاہتی ہے، کیونکہ سماج وادی پارٹی خود یوپی میں بی جے پی کو ٹکر دے رہی ہے۔ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں اکھلیش اور راہل کو ایک ساتھ دیکھا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد ان کے تعلقات کا گراف گرنے لگا۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے خود اکھلیش یادو کو خط لکھ کر فون کرکے ‘بھارت جوڑو یاترا’ میں شامل ہونے کو کہا تھا۔ مگر فی الحال ایس پی اور بی ایس پی تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔