نالندہ: پہلے قتل اور پھر نعش کے ٹکڑے کرنا ان دنوں عام بات ہوگئی ہے۔ شردھا کے قتل کے بعد ملک بھر سے ایسی کئی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ بہار میں اسی طرح کے ایک معاملہ کا انکشاف ہوا ہے۔ 
تفصیلات کے مطابق 20 سالہ بٹوکا تعلق نالندہ ضلع کے مان پور تھانہ علاقہ کے تحت ساکناتکلا سے بتایا گیا ہے، وہ طالب علم تھا۔ 15 دسمبر کو بٹو اچانک لاپتہ ہو گیا تھا۔ اس کی گمشدگی کی شکایت متعلقہ پولیس اسٹیشن میں درج کروائی گئی۔ بٹو کی تلاش کے لیے پولیس نے اس کے موبائل کی لوکیشن ٹریس کی جس میں آخری لوکیشن راہل کمارکے گھرکا تھا۔ پولیس نے شبہ کی بنا پر راہل کو حراست میں لے کرپوچھ تاچھ کی تو اس نے سنسنی خیز جرم کا انکشاف کیا۔
ملزم راہل کی بہن اوربٹو ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔ راہل اس بات کو لے کرشدید برہم تھا اس نے بعض ساتھیوں کی مدد سے بٹوکا گلا گھونٹ کراس کا قتل کردیا۔ اس کے بعد اس نے نعش کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے۔ ملزم نے نعش کے ٹکڑے کتوں کو کھلادئیے اورکچھ ٹکڑے گنگا میں بہادئیے۔معلومات کے مطابق 6 ماہ قبل جب بٹو اپنے نانا کے پاس گیا تھا تو اس کی ملاقات راہل کی بہن سے ہوئی تھی۔ اس دوران دونوں میں دوستی ہوگئی اور دونوں ایک دوسرے سے موبائل پر بات کرنے لگے۔ آہستہ آہستہ دونوں کو ایک دوسرے سے پیار ہو گیا۔ اسی دوران ان کے رشتے کی خبر راہل تک پہنچی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ راہل کوجیسے ہی اپنی بہن کے پیار کے بارے میں پتہ چلا،راہول موقع کے انتظارمیں تھا۔ اسی دوران جب بٹو کو اس کی معشوقہ نے ملاقات کیلئے بلایا تو راہل نے موقع دیکھ یہ واردات انجام دی۔