لکھنو: راہل گاندھی کی قیادت والی کانگریس کی 'بھارت جوڑو یاترا آئندہ مرحلہ میں اتر پردیش میں داخل ہونے والی ہے۔ یاترا 3 جنوری کو دہلی سے غازی آباد کے لونی بارڈر پہنچے گی۔ اس درمیان کانگریس نے یوپی مرحلہ کے لیے بھارت جوڑو یاترا کا 'روٹ میپ جاری کر دیا ہے۔ یہ یاترا دہلی سے غازی آباد کے راستے اتر پردیش میں داخل ہوگی۔ 
یاترا باغپت-شاملی ہوتے ہوئے 130 کلومیٹر کا سفر طے کر کے آئندہ مرحلہ میں پھر سے ہریانہ پہنچ جائے گی۔ بھارت جوڑو یاترا یوپی میں تین دن تک چلے گی۔ اس کے لیے پارٹی نے اپنی سبھی تیاریاں تقریباً پوری کر لی ہیں۔ یوپی میں اپوزیشن پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران کے بھی یاترا میں شامل ہونے کی امید ہے۔ یوپی مرحلہ کے لیے یاترا کا جو روٹ جاری کیا گیا ہے، اس کے مطابق 3 جنوری کی دوپہر 12 بجے بھارت جوڑو یاترا دہلی سے غازی آباد کے لونی بارڈر پر پہنچے گی۔ 
یہاں سے یاترا لونی تراہا پہنچے گی۔ 4 جنوری کو یہ یاترا باغپت ضلع میں داخل ہوگی۔ باغپت میں مروی کلاں کے راستے یاترا آگے بڑھے گی۔ بعد ازاں باغپت، سسانا، سرور پور، بڑوت سے یہ یاترا گزرے گی۔ پھر کاندھلا، اونچاگاؤں اور کیرانہ ہوتے ہوئے پانی پت بارڈر کے راستے ہریانہ میں داخل ہو جائے گی۔ تین دن میں یوپی میں یہ یاترا تقریباً 130 کلومیٹر کا احاطہ کرے گی۔ بھارت جوڑو یاترا کا آخری مرحلہ جموں و کشمیر میں ہوگا۔ یاترا کو لے کر کانگریس نے جموں و کشمیر میں بھی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملے ہیں۔ 
لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا قومی پدیاترا ہے۔ ہم نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ ملاقات کی۔ انھوں نے ہر طرح کے تعاون کی بات کہی ہے۔ اس مرحلہ میں اپوزیشن پارٹیوں کے کئی دوسرے لیڈران بھی یاترا میں شامل ہوں گے۔ کے سی وینوگوپال نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے لیڈر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ، پی ڈی پی چیف محبوبہ مفتی اور سی پی ایم لیڈر ایم وائی تاریگامی بھی یاترا میں شامل ہوں گے۔