منگلورو: کرناٹک کے منگلورو کے باہری علاقے کٹی پلا میں گزشتہ روز عبدالجلیل نامی نوجوان کے قتل کے بعد سے کشیدگی برقرار ہے، اس کے پیش نظر شہر کے چار تھانہ علاقوں میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کردی گئی ہے۔ بتادیں کہ عبدالجیل کا قتل اس وقت کیاگیا جب وہ اپنی دکان کے سامنے کھڑا تھا، تب اسے دو نامعلوم حملہ آوروں نے بہیمانہ طریقے سے چاقو سے گود کر مارڈالا۔ 
سٹی پولیس کمشنر این ششی کمار کے بیان کے مطابق عبدالجلیل نامی دکاندار کے قتل میں ملوث چار ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے اور مزید افراد کے ملوث ہونے کے بارے میں تفتیش جاری ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ سوین کانچن عرف منّا (24 سال)، شیلیش عرف شیلیش پجاری (21 سال) براہ راست اس قتل میں ملوث ہیں ۔ جبکہ گرفتار شدہ تیسرے ملزم پَوَن عرف مچّو (23 سال) نے ملزمین کو قتل انجام دینے اور موقع پر سے فرار ہونے میں تعاون دیا تھا ۔ تین ملزمین کی گرفتاری کے کچھ دیر بعد ایک اور شخص کو گرفتار کیا گیا جس کی شناخت کاٹیپلا کے رہنے والے لکشمیش دیواڈیگا (28) کے طور پر کی گئی ہے ۔ان ملزمین کو عدالت میں پیش کرکے پولیس کسٹڈی میں لینے کے بعد اس قتل کے اصل اسباب اور اس میں ملوث دیگر افراد کے تعلق سے پوری تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس معاملے سے متعلق تفتیش کے لئے خواتین سمیت 12 افراد کو تحویل میں لے کر پوچھ تاچھ کی گئی ہے ۔ عینی گواہ کے طور پر ایک خاتون نے جو سراغ دئے تھے اس سے ملزمین کی گرفتاری میں مدد ملی ہے اور اس قتل کے لئے اکسانے والے ملزم کی گرفتاری کے لئے تحقیقات جاری ہیں ۔ پولیس کمشنر نے بتایا کہ قتل کے بعد تینوں ملزمین ممبئی کے لئے فرار ہونے کا منصوبہ بنا رہے تھے ۔ گرفتار شدہ ملزم شیلیش ایک راوڈی شیٹر ہے اور اس کے خلاف سورتکل پولیس اسٹیشن میں 2 قتل کی کوشش کے کیس درج ہیں ۔ سوین کے خلاف بھی سورتکل پولیس اسٹیشن میں راوڈی شیٹ تیار کی گئی ہے ۔ مولکی، پڈوبیدری، سورتکل، میسور وغیرہ میں اس کے خلاف مقدمات درج ہیں ۔ پڈوبیدری میں اس پر این ڈی پی ایس (منشیات) قانون کے تحت کیس درج ہے ۔ جبکہ پَوَن کے خلاف اس سے قبل کوئی کیس درج نہیں ہوا ہے ۔ ملزم شیلیش کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ کچھ سال قبل کاٹیپلا میں ہوئے رووف مرڈر کے ملزم کیشو نامی شخص کا بیٹا ہے ۔ اس کے علاوہ شیلیش اور سوین کانچن دونوں 2018 میں ہوئے بی جے پی کارکن دیپک راو قتل کے اہم ملزم پنکی نواز پر قاتلانہ حملہ کا اہم ملزم ہیں ۔ اسمبلی سیشن میں صفر وقفہ کے دوران حزب اختلاف کے لیڈر سدارامیا اور رکن اسمبلی یو ٹی قادر نے عبدالجلیل قتل معاملہ اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس قتل میں ملوث افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا جائے ۔ اس کے علاوہ متاثرہ خاندان کو حکومت کی طرف سے مالی تعاون دیا جائے ۔ سدا رامیا نے کہا کہ بجرنگ دل والے چھوٹے موٹے معاملات بہت زیادہ بڑھانے کا کام کر رہے ہیں ۔ اس سے پہلے بھی وہاں وزیر اعلیٰ کے دورہ کے موقع پر قتل ہوا تھا ۔ وزیر اعلیٰ نے 'ایکشن کا ری ایکشن جیسی اشتعال انگیز بات اخلاقی پولیس گیری کو حمایت دینے کے انداز میں کہی تھی ۔ شر پسندوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی تو پھر ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں ۔یو ٹی قادر نے کیا کہا : رکن اسمبلی یو ٹی قادر نے کہا کہ عبدالجلیل کو چند فرقہ پرستوں نے قتل کیا ہے ۔ پچھلے کچھ سالوں سے دکشن کنڑا کے مختلف علاقوں میں غیر اخلاقی غنڈہ گردی کے معاملات پیش آ رہے ہیں ۔ سماج دشمن عناصر قانون اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں ۔ پولیس کو اس پر قابو پانے کے لئے مکمل آزادی اور اختیارات دینا چاہیے ۔ ایسے غنڈہ عناصر کو پولیس صبح میں حراست میں لیتی ہے اور شام میں رہا کر دیتی ہے ، اسی وجہ سے اس طرح کی قتل اور غارت گری کے واقعات بڑھتے جار ہے ہیں ۔ اس کے جواب میں وزیر قانون جی سی مدھو سوامی نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پولیس کو یہ ہدایات نہیں دی جاتیں کہ کسے کس پر کس سیکشن (دفعہ) کے تحت کیس داخل کیا جائے ۔ پولیس جو ضروری سمجھتی ہے اس قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرتی ہے ۔ اس معاملہ میں متاثرہ خاندان کو مالی تعاون دینے کے لئے میں وزیر داخلہ سے گزارش کر رہا ہوں ۔ اخلاقی پولیس گیری کے نام پر جو غیر قانونی حرکتیں ہو رہی ہیں اس پر قابو پانے کے لئے اقدامات کیے جائیں گے ۔ ہم کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا موقع نہیں دیتے۔