متھرا: متھرا کی ایک مقامی عدالت نے ورانسی کی گیان واپی معاملہ کی طرح کرشنا جنم بھومی اور شاہی عیدگاہ کے تنازعہ میں 2 جنوری سے عیدگاہ کا امین سروے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی سماعت کے لیے اگلی تاریخ 20 جنوری مقرر کی ہے۔ امین کو متعلقہ رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مدعی کے وکیل شیلیش دوبے نے کہا کہ 8 دسمبر کو دہلی میں مقیم ہندو سینا کے قومی صدر وشنو گپتا اور نائب صدر سرجیت سنگھ یادو نے سول جج سینئر ڈویژن (III) جج سونیکا ورما کی عدالت میں دعویٰ کیا تھا کہ 13.37 ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا گیا ہے، شری کرشن کی جائے پیدائش سے اورنگ زیب نے مندر توڑ کر عیدگاہ بنائی تھی۔
اس کے ساتھ انہوں نے سری کرشنا جنم استھان سیوا سنگھ بمقابلہ شاہی عیدگاہ کے درمیان سال 1968 میں کیے گئے معاہدے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
دوبے نے کہا کہ مدعی کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے عدالت نے امین کو سروے کرکے رپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 20 جنوری کو ہوگی۔