دیوبند: سمیر چودھری۔
برفیلی ہوائیں،دن میں ہلکی دھوپ اور کہرے کی چادر شام کے بعد اوس کے ساتھ ہی ٹھنڈ بھی بڑھ گئی ہے۔ درجہئ حرارت میں بھی روز بروز گراوٹ جاری ہے۔ وہیں ذرا سی لاپرواہی لوگوں کی صحت بھاری پڑ رہی ہے۔ اسپتالوں کی اوپی ڈی میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ کسی کو سردی، کھانسی اور بخار ہے تو کوئی گلے میں خراش اور زکام سے پریشان ہے۔ 
ضلع اسپتال سے لے کر پرائیویٹ ڈاکٹروں کے یہاں مریضوں کی لمبی لائنیں دیکھنے کو مل رہی ہیں، وہیں ڈاکٹر بھی لوگوں سے احتیاط برتنے کی صلاح دے رہے ہیں۔ گزشتہ دس روز سے دن میں تھوڑی دھوپ رہنے کے سبب درجہ حرارت تو معتدل رہتا ہے لیکن رات اور صبح دس سے پندرہ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں، اس طرح کا بدلاؤ لوگوں کو بیمار بنا رہا ہے۔ ضلع اسپتال میں صبح آٹھ بجے سے ہی پرچہ کاؤنٹر سے لے کر اوپی ڈی تک مریضوں کی لائن دیکھنے کومل رہی ہے۔ کوئی بچہ کو دکھانے آتا ہے تو کسی کو کھانسی، سردی کی پریشانی ہے۔ اسپتال میں سب سے زیادہ بھیڑ بچوں کے ڈاکٹر کی او پی ڈی میں رہتی ہے اور اس میں کھانسی، زکام اور پیٹ سے متعلق بیماری والے بچے سب سے زیادہ ہیں۔ ضلع اسپتال کے بچوں کے ماہر ڈاکٹر وریندر بھٹ نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتہ قبل تک بیمار بچوں کی تعداد تیس سے چالیس رہتی تھی جو اب بڑھ کر ستر سے اسّی تک پہنچ چکی ہے۔ زیادہ تر بچے سینے میں کف، جکڑنے، بخار،الٹی، دست کے امراض میں مبتلا رہتے ہیں۔ والدین کو خاص احتیاط برتنے کی صلاح دی جارہی ہے۔ او پی ڈی میں آنے والے مریضوں میں بخار، کھانسی والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ پچاس سال سے زائد عمر والے کئی مریض کھانسی، سانس سے متعلق آرہے ہیں۔ انہیں گرم کپڑے پہن کر رہنے اور کھانے پینے پر خاص توجہ دینے کی صلاح دی جارہی ہے۔ڈاکٹر نے بتایا کہ بچوں کو سرسوں کے تیل سے مالش کریں، چائے میں سونٹھ، کالی مرچ، پپلی کامکس پاؤڈر ڈالیں۔ رات میں ایک چمچ زیرہ گرم پانی کے ساتھ کھاکر سوئیں۔ شوگر، موٹاپا والے مریضوں کو ہلدی، میتھی، آنولہ، چورن ملا کر دیں۔ کھانسی آنے پر پپلی اور گڑ چوسیں۔ دل اور بلڈ پریشر کے مریض گھر سے باہر نکلنے سے بچیں۔ بچوں کو گھر اور باہر دونوں جگہوں پر گرم کپڑے پہنائیں۔