لکھیم پور: جمعیۃ علماء وسطی اترپردیش کے جملہ اراکین عاملہ، مدعوئینِ خصوصی اور ضلعی صدور و نظماء کا خصوصی اجلاس سے اداریہ محمودیہ محمدی ضلع لکھیم پور میں منعقد ہوا، جس میں وسط زون یوپی کے 28/اضلاع سے 100 سے زائد ذمہ داران و نمائندگان شریک ہوئے۔اجلاس میں صوبہ کے اندر جمعیۃ علماء کی یونٹوں کو مزید متحرک کرکے مقامی یونٹوں کی تشکیل، اصلاح معاشرہ اور دینی تعلیمی بورڈ کی تشکیل شدہ کمیٹی کی کارکردگی، اوپن اسکول، ملت فنڈ، سدبھاؤنا سنسد، ماہ فروری میں دہلی میں ہونے والے مرکزی منتظمہ و اجلاس عام اور زون کے اجلاس عام پر غور خوض کیا گیا۔ اجلاس کا آغاز جمعیۃ علماء کی پرچم کشائی سے ہوا۔
اجلاس میں بطور مہمان خصوصی تشریف لائے جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی نے اپنے کلیدی خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری وابستگی جمعیۃعلماء ہند سے کیوں ہے، ہمیں اس مقصد پر غور کرنا چاہئے۔ارتداد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچوں کو اگر بنیادی دینی تعلیم سے وابستہ نہیں کریں گے تو وہ شبہات میں مبتلا ہو کر آگے کہاں تک پہنچیں گے،اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔جمعیۃ علماء سے وابستگی ہماری دین اور دنیا دونوں ہے، جمعیۃ علماء ہماری زندگی اورموت ہے۔ تبلیغی جماعت اور مدارس کے تحفظ کا مسئلہ ہو تو کون کھڑا ہوتا ہے؟ہیٹ کرائم اور اسلاموفوبیا کے تعلق سے اقوام متحدہ اور عالمی فورم پر اس مسئلے کو اٹھانا کس جماعت کے ایجنڈوں میں سے ہے؟ مولانا نے کہا کہ جمعیۃ علماء دہلی سے نہیں بلکہ گاؤں سے شروع ہوتی ہے، ہمیں اس حوالہ سے ہر گاؤں کو جمعیۃ علماء ہند بنانا ہے، اگر جڑ مضبوط نہیں ہوگی تو شاخیں ہری بھری کیسے ہوں گی۔ جب آپ مقامی سطح پر مضبوط ہوں گے تبھی اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر عمل کرسکیں گے۔ ملت فنڈ کا قیام مقامی طور پر کاموں کو منظم کرنے کیلئے ہوا ہے،اس کے تحت لوگوں کو ماہانہ100روپے کا ممبربنایا جائے گا۔ اس کیلئے ایک فعال نوجوان کا انتخاب کرکے مرکز بھیج دیں جسے آرگنائزر بنایا جائے گا۔ جمعیۃ اوپن اسکول پر کہا کہ 300مدارس اب تک اس سے جڑ چکے ہیں، یہ آج کے زمانہ کی اہم ضرورت ہے۔ اپنے ضلع میں ورکشاپ رکھ کر اس کی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ 400سے زائد مقدمات کی پیروی جمعیۃ علماء اس وقت کر رہی ہے۔ اپنے علاقہ میں افرادسازی اور ممبرسازی کا کام کریں۔ اس کے علاوہ مولانا نے 10،11،12فروری کو ہونے والے اجلاس عام کی جانب بھی ذمہ داران کو متوجہ کیا۔ اپنے اکابر کا مشن ہماری زندگیوں کے سامنے ہونا چاہئے، ہم ان کے کردار کو بچوں اور لوگوں کے سامنے رکھیں۔
اجلاس کی صدارت فرما رہے جمعیۃ علماء وسط اتر پردیش کے صدر مولانا اسلام الحق اسجدقاسمی نے کہا کہ اگر پوری تاریخ اسلامی کا مطالعہ کیا جائے تو ہر دور میں اس احساس کو باقی رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا اصل مقصد کیا ہے، جو مشن انبیاء اور اولیاء اللہ کا تھا وہی کام علمائے کرام کا تھا اور رہے گا۔ ہندوستان کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، یہاں انگریزوں کے تسلط کے بعد ہمارے علماء سر جوڑ کر بیٹھے اور دار العلوم کا قیام عمل میں آیا، اسلام اور شعائر اسلام، ملت کی حفاظت ایک مسئلہ تھا، علماء کی قربانیوں کے نتیجے میں ہم آزادملک دیکھ رہے ہیں، آج پھر اس ملک کی حفاظت ہماری ہی ذمہ داری ہے۔ اللہ نے علماء کی جماعت سے تقسیم ہند سے قبل سے لے کر آج تک جو خدمات لی ہیں، ایسی کوئی تنظیم نہیں جو ایسے ہمہ جہت کام رہی ہو۔ آپ جب اس تنظیم سے جڑے ہیں تو آخری وقت تک اس سے جڑے رہیں۔ عہدے کے مسئلہ پر کہا کہ عہدے محدود ہوتے ہیں، کام کرنے کیلئے عہدہ بڑا مسئلہ نہیں،اس لئے فعال اور متحرک بنیں، عہدہ ہو یا نہ ہو جذبہ خدمت خلق کے ساتھ ہمیشہ کام کریں۔مولانا نے حدیث کی روشنی میں کہا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے، اس میں سب سے اچھا وہ ہے جس سے اللہ کے مخلوق کا فائدہ ہو۔ یہ ہمارے لئے سعادت کی بات ہے کہ ہم جمعیۃ علماء سے جڑ کر دین کا کام کر رہے ہیں، دین کا کام محدود نہیں ہے۔یونٹوں کی کثرت سے زیادہ کام پر توجہ دیں۔قیام مکاتب کی مختصر رپورٹ بھیجتے رہیں، کل وقتی اور جز وقتی مکاتب پر غور کریں۔ ہم دینی نقطہ نظر سے گاؤں گاؤں کا دورہ کرکے وہاں کی تفصیلات حاصل کرکے وہاں کے لوگوں کیلئے کام کریں، جہاں مکتب نہیں ہیں، اس کے قیام کیلئے کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ آپ جہاں بھی رہیں وہاں جو منکر ہو رہا ہے، اس پر نکیر ضرور کریں۔
زون کے نگراں و ریاستی نائب صدر مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے اپنے خطاب میں حالات کی ناسازگی پر کہا کہ عوام الناس تک یہ بات پہنچائیے کہ ابھی حالات اس سے زیادہ سخت نہیں ہیں جتنے سخت حالات میں ہمارے بڑوں نے ہمارے لیے راہیں کھولی تھیں، اور اگر بالفرض خدانخواستہ حالات بے قابو بھی ہو جائیں تو آزمائش اور مسلمانوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے، آزمائشی حالات امت مسلمہ کیلئے کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ نیز ہم ہی وہ جماعت ہیں جسے ان حالات کا ڈٹ کر سامنا کرنا ہے، ہم ہی مایوسی سے سوچیں گے تو حوصلے سے کون سوچے گا؟مولانا نے کہا کہ مایوسی کی بات کرنے والوں نے کبھی حالات کا مقابلہ نہیں کیا، اور حالات کا مقابلہ کرنے والوں نے کبھی مایوسی کی بات نہیں کی۔ آج بھی جو لوگ مایوسی کی بات کر رہے ہیں وہ حالات کا طویل مدتی مقابلہ نہیں کریں گے، شعلہ بن کر بھڑکیں گے اور بجھ جائیں گے۔ حالات کا مقابلہ وہ لوگ کریں گے جو لکڑی کی طرح سلگنا سیکھیں گے۔
ناظم اجلاس مفتی ظفر احمد قاسمی جنرل سکریٹری وسط زون نے کہا کہ اب تک مقامی سطح پر 200یونٹوں کا قیام عمل میں لانے کی بات آچکی ہے۔ تحصیل اور علاقائی سطح پر جمعیۃ کی یونٹ کے قیام پر عہدیداران نے کہا کہ جس طرح پولنگ بوتھ کی کمیٹی بنتی ہیں، اسی طرح گاؤں گاؤں کی کمیٹی بنائی جائے، پھر 10گاؤں کی ایک بڑی کمیٹی بنائی جائے، نوجوانوں کو جوڑاجائے۔ اس پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی نگرانی میں ایک مہینے کے اندر یونٹوں کے قیام پر کئے جانے والے کام کی رپورٹ دے گی۔ نائب صدور مولانا محمد عامل قاسمی جھانسی، مولانا عبد الجبار قاسمی ہردوئی، مفتی عبد الرحمن سیتا پور اور مولانا عبد الرب فرخ آباد کو اضلاع کی ذمہ داریاں تقسیم کی گئیں۔مفتی ظفر نے کہا کہ ضلعی کمیٹیاں مقامی یونٹوں کی تشکیل کیلئے اپنے کردار کو ادا کریں۔ صدر جمعیۃ علماء ہند اس پر بہت زیادہ فکرمند ہیں، اس لئے زون کی سطح پر با اختیار کمیٹی نگرانی کیلئے تشکیل دی جائے، اس لئے نائبین صدور اور ان کے سکریٹریان کو ذمہ داری سونپی گئیں۔
اصلاح معاشرہ کے تعلق سے گفتگو کے دوران سابق ریاستی صدر حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمیؒ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہم خدام کوانتہائی اہم عنوانات دئے، صحیح تصوف سے واقف کرانے کیلئے عظمت اولیاء اللہ کی تحریک چلائی۔ زون میں اب تک نشہ کے خلاف، عقائد کی درستگی کیلئے مہمیں چل رہی ہیں، ارتداد سے بچانے کیلئے پروگرام ہوئے۔ آئندہ تین مہینے کیلئے آسان نکاح اور طلاق سے جڑے معاشرتی مسائل کے تعلق سے مہم چلائی جا ئے گی۔ اس سلسلے میں صاحب قلم حضرات پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی، جو 15دن میں مواد مہیا کرا ئے گی جنہیں تمام اضلاع تک پہنچایا جائے گا۔کمیٹی کا سرپرست لکھنؤ کے معروف عالم دین مولانا عبد العلی فاروقی کو بنایا گیا اور ان کے ساتھ ریاستی نائب صدر پروفیسر محمد نعمان شاہجہانپور، زون کے صدر مولانااسلام الحق اسجد قاسمی لکھیم پور، مفتی حارث عبد الرحیم لکھنؤ، مولانا کوثرندوی لکھنؤاور مفتی اظہار مکرم قاسمی کو کمیٹی میں شامل کیا گیا۔ اس موقع پرجمعیۃ علماء فرخ آباد کے جنرل سکریٹری مولانا عبد الرب قاسمی نے کہا کہ جس شادی بیاہ کی مجلس میں ایسا کوئی کام ہو رہا ہو جو منکر ہو تو اس مجلس کا پہلے خود بائیکاٹ کریں۔مولانا انصار احمد جامعی نے سادگی کے ساتھ شادی پر متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے علماء اس کی پہل کریں کہ وہ سادگی کے ساتھ شادی کریں گے اور سادگی کے ساتھ دیگر تمام امور انجام دیں گے۔
اوپن اسکول کے تعلق سے مفتی ظفر احمد قاسمی نے ذمہ داران سے کہا کہ ہر ضلع میں اس کام کیلئے ایک کمیٹی بنائی جائے جو اہل مدارس کے سامنے جمعیۃ اوپن اسکول کا تعارف کرائے پھر اس کے بعد اگر کسی ضلع کو اوپن اسکول کی ضرورت ہو تو وہ مرکز سے رابطہ کرے اور وہاں سے ایک آدمی بلا کر رہنمائی حاصل کی جائے۔
انہوں نے تمام عہدیدارا ن کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام اضلاع میں ضلعی سطح پر سدبھاؤنا سنسد کے پروگرام منعقد ہونے ہیں، 15دنوں کے اندر تمام اضلاع میں سدبھاؤنا کمیٹی تشکیل دے کر ذمہ داران کے علم میں لائیں۔ ماہ فروری میں دہلی میں ہونے والے اجلاس عام کے تعلق سے کہا کہ مرکز سے ضلعی و مقامی یونٹوں کی منتظمہ، عاملہ اور مدعوئین خصوصی کی فہرست مع فون نمبرات و پتہ کے مطالبہ کیا گیاہے، اسے ایک ہفتہ کے اندر جمع کرا دیں۔ عوام کو وہاں پہنچانے میں کیا خاطر خواہ تعاون دے سکتے ہیں، اس پر غور فرما لیں۔
میٹنگ میں طے پایا کہ کہ صدسالہ تقریبات کے ضمن میں اکتوبر ماہ میں زون کا اجلاس عام لکھنؤ میں ہونا ہے، اس سے قبل تمام اضلاع میں ایک ضلع سطح کا پروگرام منعقد ہونا ہے، اس تعلق سے تمام اضلاع کے ذمہ داران اپنے اپنے ضلع کی تاریخیں طے فرما کر ذمہ داران کو مطلع فرما دیں۔
دینی تعلیمی بورڈ کے حوالہ سے کام پر طے کیا گیا کہ تمام اضلاع میں دینی تعلیمی بورڈ کی ضلع کمیٹی کا قیام عمل میں آنا ہے، ایک مہینے کے اندر اضلاع میں مکاتب کے قیام کیلئے مساجد کا سروے کرکے ذمہ داران سے رابطہ کا کام شروع کیا جائیگا۔
اجلاس میں زون کیلئے شعبہ تنظیم وترقی کا قیام عمل میں آیا جس کا ناظم قاری عبد المعید چودھری کانپور کو منتخب کیا گیا۔
لکھنؤ سے تشریف لائے معروف عالم دین مولانا عبد العلی فاروقی نے تنظیم سے باضابطہ وابستگی اور فکری وابستگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعیۃ سے باقاعدہ وابستہ نہیں ہیں لیکن فکری طور پر وابستہ ہیں۔ بزرگوں کی بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء کے سابق صدر شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کے پاس جب ملکی سطح کا بڑا ایوارڈ مانا جانے والا پدم وبھوشن ان کے گھر بھیجا گیا تھا تو انہوں نے یہ کہہ کر اسے واپس کر دیا تھا کہ میں نے جو کچھ ملک کے لئے کیا وہ عبادت سمجھ کر کیااور عبادت کا صلہ انسان سے نہیں اللہ سے لیا جاتا ہے، لہٰذا مجھے انعام بھی اللہ ہی سے چاہئے۔ یہی بات ہمارے لئے سمجھنے کی ہے ہم جو کچھ کریں وہ عبادت سمجھ کر کریں۔ مولانا نے سابق ناظم عمومی مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاویؒ کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی جمعیۃ کا تعارف تھی۔
نظامت کے فرائض زون کے جنرل سکریٹری مفتی ظفر احمد قاسمی نے بحسن وخوبی انجام دیتے ہوئے سابقہ خواندگی رپورٹ پیش کی۔ جمعیۃ یوتھ کلب کے سکریٹری مولانا احمد عبد اللہ رسولپوری نے جھنڈا ترانہ پیش کیا۔ حافظ محمد احمد صفوان نے تلاوت قرآن پاک سے اجلاس کا آغاز کیا۔ حافظ احمد یحییٰ عبد اللہ رسولپوری نے نعت و منقبت کا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ مولانا عبد العلی فاروقی کی دعا ء پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ 

سمیر چودھری۔