مراد آباد: مسلم اسکریپ تاجر عاصم حسین کو چلتی ٹرین میں بیلٹ سے بے دردی سے پیٹا گیا۔ مرادآباد کے عاصم کا الزام ہے کہ ان کی داڑھی کھینچی گئی اور انہیں مذہبی نعرے لگانے کو کہا گیا۔ اس سخت سردی میں اسے بیلٹ سے مسلسل پیٹا گیا۔ اس نے الزام لگایا کہ تقریباً دس نوجوانوں نے ’’جئے شری رام‘‘ کا نعرہ نہ لگانے پر اس کی بیلٹوں سے پٹائی کی۔ متاثرہ کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے دو نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔
متاثرہ عاصم حسین مراد آباد کے کٹگھر تھانہ علاقہ محلہ پیرزادہ کا رہائشی ہے۔ عاصم اسکریپ تاجر ہے۔ عاصم کے مطابق جمعرات کی رات وہ دہلی سے مرادآباد جانے والی پدماوت ایکسپریس میں سوار ہوئے۔ ہاپوڑ تک سب کچھ ٹھیک تھا، لیکن جیسے ہی ٹرین ہاپوڑ پہنچی، وہاں سے سوار لڑکوں نے یہ واقعہ انجام دیا۔
چلتی ٹرین میں جئے شری رام کے نعرے نہ لگانے پر عاصم کو ٹرین میں بیلٹ سے مارا گیا۔ عاصم حسین کے مطابق جب اس نے جئے شری رام کا نعرہ نہیں لگایا تو اس کے کپڑے اتار دیے گئے اور راستے بھر بیلٹوں سے مارا پیٹا گیا، مراد آباد آؤٹر پر آتے ہی کسی شخص نے ملزم کو دھکا دے کر عاصم حسین کو نیچے اتارا، واقعے کی بابت متاثرہ نے ایف آئی آر درج کرائی۔ متاثرہ کی تحریر پر پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
ایس پی جی آر پی اپرنا گپتا نے بتایا کہ جمعہ کی رات متاثرہ نے مرادآباد جی آر پی تھانے پہنچ کر شکایت کی۔ جس کی بنیاد پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ابھی دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ساتھ ہی، ایس پی نے کہا کہ جب دونوں ملزمین ستیش اور سورج سے حملہ کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ (عاصم حسین) ٹرین میں فحش حرکتیں کر رہے تھے۔ منع کر نے پر وہ مشتعل ہو گیا۔ پھر جھگڑا ہوا۔

سمیر چودھری۔