گوہاٹی:  آسام کے ڈھبری ضلع میں ایک مسجد کمیٹی کے دو گروپس میں تصادم ہوگیا جس میں ایک شخص ہلاک جبکہ ۲۰ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ ضلع کے بلاسی پارہ علاقے میں ۳۰دسمبر کو پیش آیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس تصادم میں کم از کم ۲۰افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس معاملے میں دو الگ الگ شکایتیں درج کی گئی ہیں، جب کہ پرتشدد تصادم میں ملوث ہونے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ڈھبری ضلع کی پولیس سپرنٹنڈنٹ اپرنا نٹراجن نے بتایا کہ یہ واقعہ بلاسی پارہ کے بنگالی پاڑہ مسجد میں پیش آیا۔ تصادم میں ایک ہارون رشید نام کا شخص شدید زخمی ہوا تھا جو پیر کی رات ہسپتال میں دوران علاج انتقال کر گیا۔جس کے بعد منگل کی شام مقامی لوگوں نے احتجاج کیا اور علاقے میں سڑک بلاک کردیا۔پولیس سپرنٹنڈنٹ اپرنا نٹراجن نے بتایا کہ مسجد کے دو گروپس آپس میں لڑ پڑے جس سے دونوں طرف کے متعدد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اس معاملے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ پرتشدد واقعہ بنگالی پاڑہ کا ہے۔ تاہم تصادم کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی۔ اس تصادم کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیز سے ہورہا ہے جس میں کئی لوگ سڑک کے کنارے پڑے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ لڑائی میں زخمی ہونے والے ہارون رشید کی نجی ہسپتال میں موت ہوگئی۔ اس کے بعد ان کے گھر والوں نے تین جنوری کو احتجاج کیا۔ ہارون رشید کی موت کے بعد ان کے اہل خانہ نے لاش کو بلاسی پارہ میں نیشنل ہائی وے پر رکھ کر احتجاج کیا۔ کافی دیر تک ہائی وے پر ہنگامہ ہوا۔وہیں لوگ ملزمین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے تھے۔ بلاسی پارہ پولیس نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ مجرموں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے گا۔ اس کے بعد نیشنل ہائی وے سے لوگ ہٹ گئے۔ وہیں پولیس نے اس معاملے دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ۲۸دسمبر کو دوبری میں ایک زمین معاملے کو لے کر پرتشدد تصادم ہوا تھا جس میں دو لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ موریالی گھاٹ گاؤں میں ہوئے اس تصادم میں ممتاز علی اور اس کے چھوٹے بھائی کی بیوی جاسمین بیگم کی موت ہوگئی تھی، پولیس نے بتایا تھا کہ ممتاز علی اور اس کے رشتہ دار بابل کے درمیان زمین کا تنازع کئی سالوں سے چل رہا تھا۔