نئی دہلی: جمعیۃ علماءہند کے جلسوں، کانفرنسوں میں نعت پڑھ کر اور مسلمانوں کے مطلب کی باتیں کرکے دادو تحسین حاصل کرنے والےکانگریس کے سینئر لیڈراور ترجمان آچاریہ پرمود کرشنم نے اورنگ زیب اور مغل حکومت پر بڑا بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندو کلچر اور سناتن کلچر سچائی پر مبنی ہے۔ ہماری ثقافت کو مٹانے کی بہت کوششیں کی گئیں لیکن اسے ختم نہ کیا جا سکا۔وہ ایک ٹی وی ڈیبیٹ میں بول رہے تھے۔

اے بی وی پی کے مطابق کانگریس ترجمان نے کہا، "مغلوں نے 800 سال حکومت کی، ہماری ثقافت کو تباہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ہم نہیں مٹے، دوسری بات یہ ہے کہ ہمارا آئیڈیل اورنگ زیب نہیں، ہمارا ہیرو چنگیز نہیں، اور نہ ہی ہمارا آئیڈیل انگریز ہے۔ ہمارے آدرش مہارانا پرتاپ، شیواجی ہیں۔ ہمارے آدرش سبھاش چندر بوس ہیں۔ ہندو کسی سے نہیں ڈرتا اور اگر ڈرتا ہے تو صرف پرماتما سے۔ ہندو کلچر کو کچلنے کی ہمیشہ کوشش کی گئی ہے۔”جو کامیاب نہیں ہوئی۔دراصل، اورنگ زیب سے متعلق تنازعہ مہاراشٹر سے شروع ہوا تھا۔ این سی پی لیڈر اجیت پوار نے اسمبلی میں کہا تھا کہ چھترپتی سنبھاجی مہاراج ‘دھرم ویر’ (مذہب کے محافظ) نہیں تھے، جس سے مہاراشٹر میں تاریخی شخصیات پر تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔
اسی دوران نیشنل کانگریس پارٹی کے لیڈر جتیندر اوہاد نے کہا کہ مغل بادشاہ اورنگ زیب ہندو مخالف نہیں تھے۔ اوہاد نے کہا کہ چھترپتی سنبھاجی سنگمیشور کے سردیسائی واڈا میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اورنگزیب کو یہ اطلاع کس نے دی؟ یہیں پر اصل تاریخ مضمر ہے۔ جتیندر نے بتایا کہ ان کو بہادر گڑھ لایا گیا، جہاں ان کی آنکھیں نکال دی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ بہادر گڑھ قلعے کے قریب ایک وشنو مندر تھا، اگر اورنگ زیب ہندو دشمن ہوتا تو وشنو مندر کو بھی تباہ کر دیتا۔