دیوبند: سمیر چودھری۔ 
دارالعلوم دیوبند کے ہر دل عزیز اور استاذ الاساتذہ حضرت مولانا بلال اصغر صاحب مختصر علالت کے باعث تقریباً 80 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ جمعرات کو عشا کی نماز کے بعد اچانک مولانا کی طبیعت بگڑی جس کے بعد مقامی طبیب کے مشورے کے بعد اُنہیں مظفر نگر لے جایا جارہا تھا جہاں راستے میں ہی وہ مالک حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ 
مولانا شوگر کے مریض تھے شوگر بہت زیادہ بڑھ جانے کے باعث ان کو علاج کی غرض سے مظفر نگر لے جایا گیا مگر راستے میں ہی حالت بگڑ گئی اور اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی انتقال کر گئے۔ مولانا کے انتقال کی خبر ملتے ہی تمام عزیز و اقارب متعلقین اور شہر کے افراد انکی رہائش گاہ محلہ ابوا لبر کات متصل سفید مسجد پہنچ رہے ہیں ایک بابرکت اور بزرگ عالم کا رخصت ہو جانا اہل خانہ کے ساتھ سب کے لئے باعث رنج وغم ھے، اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے آمین اور اُن کی علمی و دینی خدمات کا اعلیٰ ترین صله عطا فرمائے اور جملہ پسماندگان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ دے آمین
 
مولانا حضرت شیخ الاسلام مدنی رح کے شاگرد رشید تھے، حضرت مدنی سے بخاری کا آخری درس لینے کا شرف حضرت کو حاصل تھا۔ مولانا کی شخصیت علمی وقار اور عمیق مطالعہ سے عبارت تھی، جس کی روشنی میں آپ اپنے اخری ایام میں تاریخ و تفسیر کا درس دیا کرتے تھے۔ آپ طلبہ اور اساتذہ کے درمیان یکساں طور پر مقبول تھے۔