دیوبند: سمیر چودھری۔
علاقہ کے ممتاز بزرگ و روحانی شخصیت اور حضرت شاہ عبدالقادررائے پوری ؒ کے خلفیہ حضرت مولانا عبدالغنی صاحب کشمیری ازہری (حضرت جی مگن پورہ۔ بادشاہی باغ) کا طویل علالت کے باعث سہارنپور کے ایک اسپتال میں دوران علاج آج صبح انتقال ہو گیا ہے۔ مرحوم گزشتہ کئی ماہ علیل تھے، پہلے کشمیر اور اب سہارنپور میں زیرِ علاج تھے، گزشتہ کئی روز سے طبیعت زیادہ بگڑ گئی ،جس کے بعدجمعرات کی صبح تقریباً دس بجے انہوں نے آخری سانس لی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ انکے کے مریدین کے مطابق حضرت کی عمر 100 سال سے زیادہ تھی۔ ان کے انتقال کی خبر سے علمی حلقوں، علما کرام، طلباء، متعلقین، مریدین اور متوسلین سمیت دنیا بھر میں پھیلے ان کے چاہنے والوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مرحوم نہ صرف دارالعلوم دیوبند بلکہ جامعہ ازہر مصر کے بھی فاضل تھے، مرحوم علاقے کی ممتاز بزرگ او روحانی شخصیت تھے، وہ گزشتہ قریب نصف صدی سے اس خطہ میں دینی، علمی، اصلاحی اور تربیتی خدمات انجام دے رہے تھے، دنیا بھر سے لوگ ان کی روحانی اور اصلاحی مجلس میں شامل ہونے پہنچتے تھے، مرحوم عوام و خواص میں یکساں طور مقبولیت رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے علماءکے ساتھ ساتھ عوام میں بھی ان کے انتقا ل پر شدید رنج وغم کی لہر دوڑ گئی اور کثیر تعداد میں عوام، علماءکرام اور نامور شخصیات نے مدرسہ نظامیہ مگن پورہ بادشاہی باغ پہنچ کر آخری زیارت کی۔ نماز جنازہ کل بعد نماز جمعہ مدرسہ نظامیہ مگن پورہ بادشاہی باغ میں ادا کی جائیگی اور وہیں تدفین عمل میں آئے گی۔ نماز جنازہ میں بھاری تعداد میں لوگوں کے پہنچنے کا امکان ہے۔
ان کے انتقال پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، جمعیة علماءہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی، صدر جمعیة علماء مولانا سید محمود اسعد مدنی دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی، دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی، جامعہ مظاہر علوم سہارنپور کے امین عام مولانا سید شاہد الحسنی، ممتاز عالم دین مولانا ندیم الواجدی اور دارالعلوم زکریا دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی شریف خان قاسمی وغیرہ نے افسوس کااظہار کیا۔

اس سلسلہ میں اپنے تعزیتی پیغام میں آل انڈیا ملی کونسل کے قومی صدر مولانا حکیم عبداللہ مغیثی نے نہایت ہی دکھ و رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علامہ مرحوم نہایت متقی، پرہیز گار، ملنساراورخدا رسیدہ بزرگ تھے، آپ ملت ہند کے قابل فخر سپوت تھے جن کے تقدس اور تقوی کی عالم میں شہرت اور مقبولیت تھی، اپنی ذہانت وذکاوت کی وجہ سے مختلف علوم وفنون اورخاص طورپر فقہ اورحدیث میں ممتاز جانے جاتے تھے۔ اللہ رب العزت علامہ علیہ الرحمہ کو جنت الفردس میں اعلی و بالا مقام عطافرمائے، ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطافرمائے، ان کے دعوتی، اصلاحی کوششوں اور روحانی سلسلہ کو جاودانی عطا فرمائے۔ آمین۔
اس سلسلہ میں جامعہ رحمت گھگروں میں ایک تعزیتی نشست کااہتمام کیاگیا۔ اس موقع پر جامعہ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے سخت رنج و الم کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے میرے مشفق و مربی علامہ مفتی عبدالغنی ازہری الشاشی قدس سرہ کو بہت طویل زمانہ عنایت فرمایا، یقینا آپ کا وجود بہت بڑی نعمت تھا، دارالعلوم سے فراغت کے بعد آپ جامعہ ازہر مصر تشریف لے گئے اور پروفیسر کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں ایک عرصہ دراز تک احمد العلوم خانپور میں حدیث شریف کی خدمت انجام دی، آپ دارالعلوم نظامیہ مگن پورہ بادشاہی باغ کے بانی و مہتمم بھی تھے اور تاحیات وہیں کے ہوکے رہے۔ان کے وجود کی روشنی نے دور دراز کے علاقوں کو روشن اور درخشاں کر دیا۔ بعد ازیں دعاءمغفرت اور ایصال ثواب کیا گیا۔
علاوہ ازیں حضرت مرحوم کے انتقال پر دارالعلوم دیوبند کے شعبہ تحفظ ختم نبوت کے نائب ناظم مولانا شاہ عالم گورکھپوری، رکن شوریٰ مولانا محمد عاقل قاسمی، دارالعلوم دیوبند کے استاذ مولانا توقیر قاسمی، کل ہند رابطہ مساجد کے قومی سکریٹری مولانا عبداللہ ابن القمر الحسینی، جمعیة علماءہند کی مجلس منتظمہ کے رکن مولانا شمشیر قاسمی، ضلع سکریٹری مولانا ابراہیم قاسمی، مفتی عارف مظاہری، مفتی ساجد کھجناوری، جامعة الشیخ کے مہتمم مولانا مزمل علی قاسمی، قاری زبیر احمد قاسمی، مفتی عبدالخالق قاسمی الماجروی، رکن پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن، بی ایس پی لیڈر عمران مسعود سمیت علاقہ کی سرکردہ شخصیات اور نامور افراد نے گہرے رنج و الم کااظہار کیا۔