مظفر نگر: سمیر چودھری۔
مظفرنگر کے قصبہ بڈھانہ کی جمعیة کالونی میں واقع مدرسہ شاہی دارالقرآن میں ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا، اس دوران ادارہ میں درس و تدریس کا کام شروع کیا گیا ۔اس دوران علماءنے سبھی سے اپنے بچوں کو مدرسہ میں تعلیم دلانے کی اپیل کی۔ مولانا عمران حسین پوری کی سرپرستی منعقد اس اجلاس کی صدارت جمعیۃ علماء بڈھانہ کے صدر حافظ شیردین نے کی اور نظامت کے فرائض محمد آصف قریشی بڈھانوی نے انجام دیئے۔

اس موقع پر حافظ شیردین نے کہا کہ کہ سال قبل حافظ تحسین اور محمد آصف قریشی، حاجی شرافت علی وغیرہ نے قابل تحسین قدم اٹھایا اور بچوں کی دینی تعلیم کا خیال رکھتے ہوئے اس کام کو آگے بڑھایا جو کہ اپنے آپ میں ایک قابل ستائش کام ہے۔انہوں نے کہا کہ مدارس کی خدمت کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو قبول کرتا ہے اور ان سے کام لیتا ہے۔مدارس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے حافظ شیردین نے کہا کہ مدارس معاشرے کی بہتری میں معاون ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کے لیے مدارس میں پڑھنے والے علماءکرام نے اپنی زندگیاں جیلوں میں گزاری اور ملک کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، مدارس کا ساتھ دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔مولانا عمران حسین پوری نے کہا کہ مدارس کی ذمہ داری بڑی اہم ذمہ داری ہوتی ہے اور رفقاءمدارس کا تعاون کرنا ہمارا فریضہ ہے۔ موصوف نے محلہ کی عوام سے اپنے بچوں کو مدرسہ میں بھیجنے کی اپیل کی۔حافظ تحسین نے کہا کہ مدارس ہماری پہچان ہیں اور دین کے قلعے ہیں۔مفتی عبدالقادر قاسمی جنرل سیکرٹری جمعیة علماءضلع مظفرنگر نے کہاکہ جمعیتہ علماءبڈھانہ شہر کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہاں کے ذمہ داران نے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس سے ہمیشہ امن کا پیغام دیا جاتاہے۔ علاوہ ازیںحافظ اللہ مہر صدیقی ،حاجی شرافت ،مفتی وسیم اور مفتی اسرار نے جمعیت علماءبڈھانہ کے ذمہ داران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے کام کی ستائش کی۔ واضح ہوکہ جمعیة علماءہند کی مقامی یونٹ کے عہدیداروں نے مدرسہ کی یہ زمین سال 2017 میں بچوں کی تعلیم کے لیے خریدی تھی، آصف قریشی نے بتایا کہ 24 اکتوبر 2021کو صدر جمعیة علماءہند مولانا سید ارشد مدنی نے مدرسہ کا سنگ بنیاد رکھاتھا۔آخر میںمہتمم مدرسہ قاری محمد عاقل نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔اس موقع پر مولانا شعیب عالم، حافظ محمد راشد قاسمی، صوفی ریاض الحق، حافظ عبدالغفار، حافظ خان محمد، مفتی فیضان، قاری عبدالقادر فلاحی، حافظ یامین، حافظ وکیل، معاذ نوید، فریدی، جمشید عالم اسلام منصوری، عارف طفیل، نسیم، نشر، مہردین، شاہد قریشی، عبدالناصر صدیقی وغیرہ موجود تھے۔