نئی دہلی: بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے ریسلرز نے جمعرات کو دوسرے روز بھی ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے خلاف دھرنا جاری رکھا۔ اس دوران پہلوان ببیتا پھوگاٹ حکومت کی جانب سے کھلاڑیوں سے بات کرنے پہنچیں اور انہیں جلد ہی مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ببیتا کی جانب سے یقین دہانی کے بعد یہ کھلاڑی بات چیت کے لیے مرکزی وزارت یوتھ اینڈ اسپورٹس شاستری بھون گئے۔ یہاں وہ عہدیداروں سے بات چیت کریں گے۔پہلوان ونیش پھوگٹ، ساکشی ملک، بجرنگ پونیا اور دیگر پہلوان دہلی کے جنتر منتر پر آج دوسرے دن بھی دھرنے پر بیٹھے نظر آئے۔ ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے سربراہ برج بھوشن شرن پر ریسلرز نے جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے ہیں۔جنتر منتر پر کل کے دھرنے کے بعد آج بڑی تعداد میں لوگ ان کی حمایت میں اکٹھے ہوئے۔ اس دوران پہلوان بجرنگ پونیا نے کہا کہ وہ اپنے حقوق کی جنگ لڑنے آئے ہیں۔ اس دوران پہلوان ونیش پھوگاٹ نے الزام لگایا کہ برج بھوشن شرن جیسے لوگوں کو ہریانہ کی نو تشکیل شدہ ریسلنگ فاو¿نڈیشن میں پناہ دی جارہی ہے۔اس دوران بی جے پی لیڈر اور پہلوان ببیتا پھوگاٹ حکومت کی جانب سے ثالثی کے لیے جنتر منتر پہنچیں۔ بات چیت کے بعد ببیتا نے وہاں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت ان کے ساتھ ہے۔ وہ آج ہی ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گی۔سی پی آئی (ایم) لیڈر برندا کرات بھی پہلوانوں کی حمایت میں وہاں پہنچ گئیں، جنہوں نے انہیں اسٹیج سے اترنے پر زور دیا۔ پہلوانوں نے کہا کہ وہ اسے سیاسی پلیٹ فارم نہیں بنانا چاہتے۔