نئی دہلی: بی بی سی کی ’انڈیا دی مودی کوئشن‘ پر ملک میں ہنگامہ ہے۔ اس سیریز میں وزیراعظم مودی اور ہندوستانی مسلمان، گجرات فسادات، سی اے اے، دفعہ ۳۷۰ کے خاتمے کا ذکر کیاگیا ہے۔ وزارت خارجہ نے بی بی سی کی ڈاکیومینٹری کو لے کر کہا ہے کہ یہ ہندوستان کے خلاف ایک خاص قسم کا غلط پروپیگنڈہ مہم اوربیانہ چلانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ڈاکیومنٹری ہندوستان میں نہیں دکھائی جاسکتی ہے، یہ ڈاکیومنٹری بی بی سی پر نشر کی گئی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغیچی نے پریس کانفرنس کے ذریعے کہا کہ ہم یہی کہیں گے کہ یہ ہندوستان کے خلاف ایک غلط پروپیگنڈہ چلانے کی کوشش ہے، یہ ڈاکیومنٹری دکھاتی ہے کہ اس سے منسلک لوگ اور تنظیمیں ایک خاص قسم کی سوچ رکھتی ہیں، کیوں کہ اس میں حقائق اور امر واقعہ کو لے کر غیر جانبداری نہیں دکھائی گئی ہے۔ یہ ایک نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہاکہ برطانوی سفارت کاروں کے جانچ اور پڑتال جیسے الفاظ کے استعمال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک خاص ذہنیت ہے کیا وہ لوگ اب بھی یہاں حکمرانی کررہے ہیں، اس لیے ہم کہہ رہے ہیں کہ ایک نوآبادیاتی ذہنیت کے ساتھ اس ڈاکیومنٹری کو بنایاگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ ایک پروپیگنڈہ پیس ہے، اس میں معروضیت کا فقدان ہے، یہ جانبدار ہے دھیان دیں کہ اسے ہندوستان میں ٹیلی کاسٹ نہیں کیاگیا ہے۔ قبل ازیں برطانیہ کی پارلیمنٹ کے ہاؤس آف لارڈز کے رکن لارڈ رامی رینجر نے بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پر نکتہ چینی کرنے والی نئی سیریز پر بی بی سی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بی بی سی کی مبینہ جانبدارانہ رپورٹنگ کی مذمت کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ بی بی سی آپ نے ایک ارب سے زیادہ ہندوستانیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ یہ جمہوری طور پر منتخب ہندوستانی وزیراعظم، پولیس اور ہندوستانی عدلیہ کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ۲۰۰۲کے فسادات اور جانی نقصان کی مذمت کرتے ہیں لیکن بی بی سی نے جس طرح سے جانبدارانہ رپورٹنگ کی ہے وہ قابل مذمت ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ برطانوی نشریاتی ادارہ بی بی سی ٹو اب اپنی دو حصوں پر مشتمل نیوز سیریز "انڈیا: دی مودی کوشچن" کے لیے سرخیوں میں ہے اور بی بی سی پر جانبدارانہ کوریج کا الزام لگایا جا رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی بی سی نے اپنی سیریز میں کہا ہے کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور ہندوستان کی مسلم اقلیت کے درمیان تناؤ ہے اور ۲۰۰۲کے فسادات میں ان کے کردار کے دعوؤں کی تحقیقات کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سریز میں اس بات کی جانچ کرنے کی بات کہی گئی ہے کہ کیسے نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہندوستان کی مسلم آبادی کے تئیں ان کی حکومت کے رویے کے بارے میں اکثر الزامات لگتے رہے ہیں اور متنازعہ پالیسیوں کا ایک سلسلہ نافذ کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کریں گے کہ ۲۰۱۹کے انتخابات جیتنے کے بعد مودی نے مسلمانوں پر مظالم بڑھانے کے لیے کتنے فیصلے لیے، جس میں کشمیر سے آرٹیکل ۳۷۰کی منسوخی اور شہریت ترمیم قانون وغیرہ شامل ہے۔وہیں کئی ہندوستانی شہریوں نے ڈاکیومنٹری پر تنقید کرتے ہوئے بی بی سی کو ۱۹۴۳کے بنگال کے قحط پر ایک سیریز چلانے کا مشورہ دیا، جس کے نتیجے میں تقریباً ۳۰ لاکھ افراد غذائی قلت یا بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک اور ٹویٹر صارف نے بی بی سی کو مشورہ دیا کہ وہ برطانیہ کے مسائل پر توجہ مرکوز کرے کیونکہ برطانیہ تقریباً تمام پیرامیٹرز میں ہندوستان سے پیچھے ہے۔ حال ہی میں ہندوستان برطانیہ کو شکست دے کر دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گیا ہے اور دہائی کے آخر تک تیسری سب سے بڑی معیشت بننے والا ہے۔ اب ہندوستان ڈالر کے لحاظ سے معاشی میدان میں صرف چار ممالک سے پیچھے ہے۔ جن ممالک کی معیشت ہندوستان سے بڑی ہے وہ امریکہ، چین، جاپان اور جرمنی ہیں۔