Latest News

مسجد اقصیٰ معاملے میں سلامتی کونسل کا کارروائی سے گریز، اجلاس میں صورت حال کو جوں کا توں برقرار رکھنے پر زور۔

 نیویارک: اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے رہنما اور سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر گزشتہ ہفتے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوگئے تھے، جسے فلسطینی رہنماوں نے "غیر معمولی اشتعال انگیز اقدام" قرار دیا تھا اور مسلم ملکوں کے علاوہ دنیا کے دیگر ملکوں نے بھی اس کی مذمت کی تھی۔چین اور متحدہ عرب امارات نے اس واقعے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ 
جمعرات کے روز ہنگامی اجلاس میں سلامتی کونسل نے مسجد اقصیٰ کی صورت حال کو جوں کا توں برقرار رکھنے پر زور دیا تاہم اس نے اسرائیلی رہنما اتمار بین گویر کے متنازعہ اقدام کے حوالے سے کسی طرح کی کارروائی کرنے سے گریز کیا۔ مسجد اقصیٰ، مکہ مکرمہ کے مسجد حرام اور مدینہ منورہ کی مسجد نبوی کے بعد مسلمانو ں کے لیے تیسرا سب سے مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔ دہائیوں سے مسجد اقصیٰ میں صرف مسلمانوں کو ہی داخلے کی اجازت ہے۔ حالانکہ یہودی بھی اسے اپنے لیے مقدس سمجھتے ہیں۔ وہ اسے ٹمپل ماونٹ کہتے ہیں۔ اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے گروپ طویل عرصے سے اس کے 'اسٹیٹس کو کو تبدیل کرنے اور وہاں یہودیوں کے لیے بھی عبادت کرنے کی اجازت کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انتہائی دائیں بازو کے یہودی مسجد اقصیٰ کی جگہ پر ایک یہودی کنیسا کی تعمیر کا مطالبہ بھی کرتے رہے ہیں۔ فلسطینی سفیر ریاض منصور نے بین گویر کی اشتعال انگیز حرکتوں کے تناظر میں سلامتی کونسل سے اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، "سلامتی کونسل آخر اسرئیل کی طرف سے کس حد کو پار کرنے کا انتظار کر رہا ہے، اب تو انتہا ہو چکی ہے۔" انہوں نے اسرائیل پر سلامتی کونسل کے تئیں " مکمل توہین" کا مظاہرہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ فلسطینی سفیر نے کونسل کی جانب سے کسی طرح کی کارروائی نہیں کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا اور متنبہ کیا کہ اس سے صورت حال قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیاسی امور کے ایک سینیئر اہلکار خالد خیری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سن 2017 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کوئی اسرائیلی وزیر مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوا۔ انہوں نے کہا، "گوکہ ان کے دورے کے بعد کسی طرح کا تشدد نہیں ہوا لیکن اسٹیٹس کو میں تبدیلی کے حوالے سے بین گویر کے سابقہ بیانات کے تناظر میں اسے اشتعال انگیز حرکت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔"

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر