ممبئی: پریس ریلیز۔ تنظیم ابنائے ثاقب کے زیر اہتمام گوونڈی میں منعقد ہونے والی عظیم الشان خواتین اسلام کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے مدرسہ اشاعت العلوم شیواجی نگر گوونڈی میں ایک اہم مشاورتی نشست کا انعقاد کیا گیا، نشست کی صدارت جانشین عارف باللہ حضرت قاری صدیق باندوی رحمۃ اللہ علیہ قاری حبیب صاحب باندوی نے کی. نشست کا آغاز مفتی شکیل قاسمی امام و خطیب مسجد ابوبکر گوونڈی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا جب کہ بارگاہ نبوت میں نعت نبی کا نذرانہ مسجد دارارقم کے امام و خطیب مولانا حسین احمد نے پیش کیا. جب کہ نظامت کے فرائض مسجد انوار شیواجی نگر گوونڈی کے امام و خطیب مفتی محمد شرف الدین عظیم قاسمی نے بحسن و خوبی انجام دیا. اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مدرسہ ریاض العلوم مسجد فرقانیہ گوونڈی ممبئی کے مہتمم مفتی محمد احمد قاسمی نے کہا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ اے ایمان والو خود بھی آگ سے بچو اور اپنے اہل و عیال کو بھی آگ سے بچاؤ، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خود بھی نیک عمل کرے اور اپنے اہل و عیال کو بھی نیک عمل کرنے کی ترغیب دے اور اسی طرح وہ اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاسکتا ہے، مفتی محمد احمد قاسمی نے اس موقع پر خواتین اسلام کانفرنس کے انعقاد کو ایک عظیم کام بتاتے ہوئے کہا کہ اپنی ماؤں اور بہنوں کے لیے اس طرح کے پروگرام کا انعقاد گویا اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کا ایک طریقہ ہے، انہوں نے اس موقع پر خواتین اسلام کانفرنس کے آرگنائزر مولانا محمد عارف ثاقبی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اسلام کانفرنس کا انعقاد یقیناً خواتین اسلام کی دینی رہنمائی کا اہم سنگ میل ثابت ہوگا میں خواتین اسلام کانفرنس کے انعقاد کے لئے مولانا عارف ثاقبی کے ساتھ ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کانفرنس کو خواتین کی دینی رہنمائی مشعل راہ ثابت ہو. وہیں اس موقع پر جمعیۃ علماء گوونڈی کے صدر مولانا محسن قاسمی نے کہا کہ اس وقت پورا ملک لڑکیوں کے ارتداد کے فتنے سے جھوجھ رہا ہے، کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جس میں ملک کے کسی نہ کسی گوشے سے مسلم لڑکیوں کے ارتداد کی روح فرسا خبریں نہ موصول ہوتی ہوں، فتنہ ارتداد کو روکنے کے لیے خواتین کی دینی تربیت انتہائی ناگزیر ہے، یہی وہ اہم طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی ماؤں اور بہنوں کو گمراہی سے بچا سکتے ہیں، اس مقصد کے لیے خواتین اسلام کانفرنس کا انعقاد یقیناً وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کانفرنس کے آرگنائزر حضرات مبارکباد کے مستحق ہیں، آخر میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے حضرت قاری حبیب باندوی صاحب نے فرمایا کہ یہ بڑا نازک وقت ہے، ملت اسلامیہ مختلف مسائل سے دوچار ہے، کام کرنے کے بہت سارے محاذ ہیں، اور الحمد للہ ہمارے نوجوان علماء، ائمہ اور دیگر دینی خدمات انجام دینے والے اپنی اپنی سطح پر وہ محاذ سنبھالے ہوئے ہیں اور ملت اسلامیہ کی رہنمائی کررہے ہیں، لیکن اس وقت ہمارے عزیز اور جامعہ عربیہ ہتھوڑا باندہ کے فیض یافتہ مولانا محمد عارف ثاقبی نے ملت اسلامیہ کے جس اہم مسئلہ کی جانب اپنی توجہ مرکوز کی ہے یقیناً وہ اس وقت کا سب سے اہم مسئلہ ہے جس کی جانب سنجیدگی سے توجہ کرنا ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے، مسلم لڑکیوں میں فتنہ ارتداد کی خبریں ہم سبھی کے کانوں سے ٹکراتی ہیں لیکن ہم لوگوں نے اس مسئلہ کو بہت زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جس کی وجہ سے دن بدن یہ فتنہ بڑھتا ہی جارہا ہے، مولانا عارف نے خواتین اسلام کانفرنس منعقد کرکے فتنہ ارتداد کی سرکوبی کی جانب بہت بڑا قدم بڑھایا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں سے ہر فرد ان کا اس کام میں ساتھ دیں اور ارتداد کے فتنہ کا سر کچلنے میں ان کا تعاون کریں، ہماری دعائیں اور نیک خواہشات ان کے ساتھ ہیں، اللہ خواتین اسلام کانفرنس کو بامقصد بنائے اور اس کو مفید بنائے.
اس پروگرام میں مولانا امتیاز بھوئیرا نائب ناظم مدرسہ اشاعت العلوم گوونڈی، مولانا صدرعالم قاسمی جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء گوونڈی، مولانا ریاض مظاہری ناظم جامعہ خدیجۃ الکبری گوونڈی، مولانا محمد سلمان خوشتر حلیمی،مولانا صغیر احمد نظامی، مولانا نسیم ندوی امام و خطیب مدرسہ مصباح العلوم گوونڈی، مولانا غفران ساجد قاسمی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن ، قاری شہاب الدین صدیقی چیف ایڈیٹر شہاب ٹی وی مولانا خان افسر قاسمی  ،مولانا اشفاق معہد عائشہ گوونڈی ، مولانا عزیزالرحمان وغیرہ موجود تھے۔