نئی دہلی: پارلیمنٹ کی نئی عمارت تیار ہے۔ آخری لمحات کی تیاریاں جاری ہیں، 31 جنوری کو بجٹ سیشن کے آغاز سے قبل اس ہفتے پارلیمنٹ کی نئی عمارت تیار ہوجائے گی۔ مرکزی ہاؤسنگ اور شہری امور کی وزارت نے جو کہ نئی پارلیمنٹ کی تعمیر اور سینٹرل وسٹا کی بحالی کے لیے ذمہ دار ہے، تکونی شکل کے ڈھانچے کے اندرونی حصوں کی تصاویر شائع کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس کا تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور فنشنگ کا کام جاری ہے۔ لوک سبھا ہال کے اندر کی تصاویر منظر عام پر آئی ہیں، جس میں لوک سبھا بہت شاندار اور کشادہ نظر آ رہی ہے۔ ذرائع کی مانیں تو مرکز کی نریندر مودی حکومت اس سال پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں صدر جمہوریہ کا مشترکہ خطاب کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ بھی توقع ہے کہ اس سال کا بجٹ اجلاس بھی پارلیمنٹ کے نئے ہال میں پیش کیا جائے گا۔ مرکز کی نریندر مودی حکومت بجٹ اجلاس کو صرف نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بجٹ کے پہلے مرحلے کا اجلاس 30-31 جنوری کو بلایا گیا ہے۔ صدر مملکت نے اجلاس کے پہلے دن مشترکہ طور پر دونوں ایوانوں سے خطاب کیا۔ اگلے دن لوک سبھا میں بجٹ پیش کیا جاتا ہے۔ توقع ہے کہ اس بار بجٹ نئی عمارت میں پیش کیا جائے گا۔ ہندوستانی پارلیمنٹ کی نئی عمارت پر نہ صرف اہل دہلی بلکہ ہندوستان کے ہر شہری کی نظر اس خوبصورت عمارت پر ہوگی۔ ہندوستانی جمہوریت کی نئی پہچان بنے گی یہ عمارت، جسے تعمیری شاہکار مانا جارہا ہے۔ اس پارلیمنٹ کی ایک خاص بات یہ ہوگی کہ اس کے مرکزی ہال میں کشمیری سلک قالین بچھایا گیا ہے۔ جس کی تیاری کشمیر کے بڈگام میں تیار کئے گئے ہیں۔ حال ہی میں پارلیمنٹ کی پرانی اور نئی عمارت کے درمیان کا محاصرہ بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ 
پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے۔ اگر کسی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے تو بھی کوشش کی جارہی ہے کہ بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہی ہو۔ نیا پارلیمنٹ ہاؤس نومبر 2022 تک تیار ہونا تھا لیکن اس کے کام میں پہلے ہی کافی تاخیر ہو چکی ہے۔پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 31 جنوری سے شروع ہو کر 6 اپریل تک جاری رہ سکتا ہے۔ 14 فروری سے 12 مارچ تک چھٹی ہوگی۔ روایت کے مطابق صدر دروپدی مرمو 31 جنوری کو سیشن کے آغاز میں دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گی۔ اس کے بعد بجٹ پیش کیا جائے گا اور پہلے چند روز تک صرف بجٹ پر بحث کی جائے گی۔ نئے لوک سبھا چیمبر کی 888 نشستیں ہیں اور مستقبل کی حد بندیوں کے ساتھ ایوان کی طاقت بڑھنے پر اس سے بھی زیادہ ممبران پارلیمنٹ کو ایڈجسٹ کرنے کی گنجائش ہے اور راجیہ سبھا چیمبر میں 384 نشستیں ہیں۔ ایوان بالا کا اندرونی حصہ کمل کی تھیم پر مشتمل ہے، جب کہ لوک سبھا میں مور کے نقش ہیں۔ نئی عمارت میں موجودہ پارلیمنٹ کی طرح سینٹرل ہال نہیں ہے، اس کے بجائے لوک سبھا چیمبر کو مشترکہ اجلاسوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔