لکشمی پور، مہراج گنج: پریس ریلیز۔
دارالعلوم دیوبند کے مؤقر استاذ مولانا بلال اصغر دیوبندی کے انتقال پر بعد نماز جمعہ دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ میں ایک تعزیتی نشست ادارہ کے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں جملہ اساتذہ کرام وطلبہ کے علاوہ قرب وجوار کے فضلاء دیوبند نے شرکت کی۔
 تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے کہا کہ: مولانابلال اصغر دیوبندی کا انتقال پوری ملت اسلامیہ کے لئے عموماً اوردارالعلوم دیوبند سمیت تمام تعلیمی اداروں کے لئے خصوصاً کسی دل دوز سانحہ سے کم نہیں ، آپ صف اول کے علماءدیوبند میں سے تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی تمام علمی حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی، مرحوم ایک کامیاب ومقبول استاذ ہونے کے ساتھ اردو وفارسی زبان کے بہترین ادیب بھی تھے، آپ کی تحریروں میں بڑی روانی، نزاکت ،لطافت اور ادبی چاشنی ہواکرتی تھی۔ آپ کا شمار مولانا حسین احمدمدنی کے مخصوص تلامذہ میں ہوتا تھا، پوری زندگی تدریس وتصنیف میں گذری، اپنے علمی وقار اور عمیق مطالعے کی روشنی میں آخری ایام تک فقہ وتفسیر کا درس دیتے رہے۔ 
 اپنے گہر ے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے دارالعلوم فیض محمدی کے پرنسپل مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے کہا کہ : مولابلال اصغردیوبندی کے انتقال سے مجھے ذاتی طور پر صدمہ ہوا ہے، آپ میرے مشفق استاذ تھے ، آپ کی ذات اخلاق حسنہ کی پیکر تھی، آپ طلبہ کیلئے آئیڈیل تھے، درسگاہوں میں درس کے دوران اپنی پر کشش شخصیت ،رعنائی خیال اور چشم کشا معانی وتحقیقات کے ذریعہ طلبہ کو اپنا اسیر بنالیتے تھے، یقینا آپ کی مرنجاں مرنج وباکمال شخصیت سے طلباء دین خوب فیض اٹھاتے اور دامن مراد کو بھر لیتے تھے۔ بے شمار کمالات وخصوصیات کو دیکھ کر کہاجاسکتا ہے کہ مولانا ایک جلیل القدر عالم دین تھے،تصنیف وتالیف کے علاوہ آپ کو فن تفسیر سے خاص شغف تھا، خوش مزاجی، نرم خوئی، اور استحضار علم کی وجہ سے طلبہ میں ہمیشہ مقبول رہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی بال بال مغفرت فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور پسماندگان ومتعلقین کو اور تلامذہ کو صبر جمیل عطا فرمائے ، آمین۔
 اس تعزیتی نشست میں مصلیان مسجد، وطلباءکے علاوہ خاص طور پر مفتی احسان الحق قاسمی، ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی، مولانا شکراللہ قاسمی ، مولانا ظل الرحمان ندوی ، مولانا محمد صابر نعمانی، قاری محمد وسیم، مولانا محمد سعید قاسمی، مولانامحمد یحیٰ ندوی، حافظ محمد ناظم ، حافظ ذبیح اللہ خان، ماسٹر محمد عمر خان، ماسٹر جاوید احمد ، ماسٹر فیض احمد ، ملا محمد مسلم ، محمد قاسم ،وغیرہ موجود تھے۔