سہارنپور: سمیر چودھری۔
چھیڑ خانی سے تنگ آکر تین طالبات نے تعلیم چھوڑدی، طالبات کے اہل خانہ نے ملزم نوجوان کو سمجھانے کی کوشش کی تھی لیکن جب وہ نہیں مانا تو اہل خانہ نے جنک پوری تھانہ میں تحریر دے کر کارروائی کا مطالبہ کیا، پولیس نے مقدمہ قائم کرکے نوجوان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔ 
جنک پوری تھانہ انچارج سنوج یادو نے بتایا کہ گزشتہ دیر شام ایک محلہ کے تین افراد ان کے پاس آئے تھے، انہوں نے بتایا تھا کہ ان کی نابالغ بیٹیوں کو ایک نوجوان گزشتہ کئی روز سے اسکول آتے جاتے وقت پریشان کررہا ہے اور وہ اسکوٹی سے ان کا پیچھا بھی کرتا ہے، کبھی اسکوٹی کو آگے لگادیتا ہے تو کبھی پیچھے سے ٹکر مار دیتا ہے، اس سے تنگ آکر ان کی بیٹیوں نے اسکول جانا بند کردیا ہے ۔ تھانہ انچارج نے بتایا کہ طالبات کے اہل خانہ کی تحریر پر 21سالہ ملزم ابھیشیک ولد گوپال ساکن محلہ بیری باغ سہارنپور کے خلاف مقدمہ قائم کیا ، صبح ملزم کو اس کے گھر سے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم نے بھی قبول کیا ہے کہ وہ طالبات کے ساتھ چھیڑ خانی کرتا تھا اور وہ ان کا پیچھا کرتا تھا۔
پولیس جب ملزم ابھیشیک کو گرفتار کرکے تھانہ لے کر پہنچی تو اسی وقت ہندو تنظیموں سے وابستہ کچھ کارکنان بھی تھانہ پہنچے اور ملزم کو چھڑانے کا مطالبہ کرنے لگے، لیکن جنک پوری تھانہ انچارج نے ان کی ایک بھی نہیں سنی اور اسے جیل بھیج دیا۔ جس ملزم ابھیشیک کی وجہ سے طالبات نے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا ، بھلے ہی اسے پولیس نے گرفتار کرلیا ہو لیکن پولیس اس کے مہنگے سامان دیکھ کر حیران رہ گئی، پولیس نے جب اسے گرفتار کیا تو اس کے پاس ایک لاکھ روپے قیمت کی اسکوٹی ، ایک لاکھ روپے قیمت کا مہنگا موبائل اور دیگر مہنگا سامان ملا ہے ، پولیس نے جب ابھیشیک کے پیشے کے بارے میں معلوم کیا تو معلوم ہوا کہ وہ چائے فروخت کرتا ہے جس کے بعد پولیس کو اور شک ہوگیا کہ ابھیشیک یا پھر اس کے اہل خانہ کا کوئی ممبر غلط کاروبار کررہا ہے ، اس لئے پولیس اب ابھیشیک کی تہہ تک جائے گی اور جانچ کرے گی۔ پولیس نے ابھیشیک کا موبائل ضبط کرلیا ہے اور جانچ شروع کردی ہے ، ملزم کے موبائل میں کئی مشتبہ نمبرات بھی ملے ہیں جس میں کئی لڑکیوں کے بھی نمبر ہیں۔ پولیس ملزم کے نمبر کی سی ڈی آر بھی نکال رہی ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس کے رابطے میں کوئی بڑا مجرم تو نہیں ہے، پولیس ابھیشیک کے ایک اہل خانہ کے بارے میں بھی خفیہ جانچ کررہی ہے۔ جب کہ جس تنظیم کے لوگ ملزم کو تھانہ سے چھڑانے کے لئے آئے تھے اس کا ایک عہدے دار ملزم سے جڑا ہوا ہے ۔