رانچی: جھارکھنڈ کے ضلع دھنباد میں کل 55 مسلم تنظیموں نے شادی کی بارات کے جلوس میں ڈی جے، پٹاخے اور رقص پر سخت پابندی لگانے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی خلاف ورزی کی گئی تو کوئی بھی قاضی نکاح نہیں پڑھائے گا۔ یہ فیصلہ تنظیم علماء اہلسنت کے زیر اہتمام واسع پور میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں اتفاق رائے سے کیا گیا اور پورے شہر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مولانا غلام سرور قادری نے کہا کہ ایک مہم نکاح آسان کرو شروع کی گئی ہے اور اسے دھنباد کے بعد پوری ریاست میں چلایا جائے گا۔اجلاس میں شریک مسلم کمیونٹی کے تمام نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شادیوں کے دوران غیر ضروری دکھاوے کی وجہ سے لوگوں کی مالی حالت خراب ہو رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آتش بازی اور ڈی جے اسلامی عقائد اور روایات کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اسراف میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں، اسی لیے ایسی شادیوں کا اجتماعی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مفتی محمد رضوان احمد نے کہا کہ یہ رقم بچوں کی تعلیم و تربیت پر خرچ کرنے سے انہیں فائدہ ہوگا اور یہ سماجی ترقی کی جانب ایک ٹھوس قدم ہوگا۔ اسی طرح کا فیصلہ ضلع کے توپچانچی بلاک کے لیڈاٹنڈ میں 28 پنچایت دیہات کے مسلمانوں کی میٹنگ میں لیا گیا، جس میں جہیز پر پابندی لگانے پر اتفاق کیا گیا۔