ہلدوانی: وی ایچ پی کے بانی ڈاکٹر پراوین توگڑیا نے ہلدوانی کا دورہ کیا جہاں کارکنوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس دوران پروین توگڑیا نے کہا ہے کہ ہندوؤں کے لیے خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں ملک میں آبادی کنٹرول قانون لانا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آبادی کنٹرول قانون لا کر مسلمانوں کی آبادی کو روکنے کے لیے کام کرے۔ ورنہ بھارت کے ہندو کا مستقبل خطرے میں پڑنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سے زائد بچے رکھنے والوں کو کسی قسم کی سرکاری سہولت نہیں ملنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ دو سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں انہیں سرکاری نوکریوں کے علاوہ ووٹ دینے سے بھی محروم رکھا جانا چاہیے۔ ایسے میں بھارت کی آبادی دو سال کے اندر پوری طرح متوازن ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں بھی تبدیلی ہونی چاہئے اور آئین میں تبدیلی کرکے تمام اعلی سرکاری عہدوں کو ہندووں کے لئے مختص کردینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں تبدیلی کرکے مسلمانوں کو آئینی عہدوں پر فائز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ کیونکہ سعودی عرب سمیت دیگر مسلم ممالک میں آئینی عہدوں سمیت دیگر عہدوں پر کوئی ہندو نہیں فائز ہوسکتا اور اسی لئے بھارت میں ایسے قوانین ہونے چاہئیں کہ مسلمان کسی آئینی عہدے کے علاوہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، ڈی ایم، ایس پی، جج نہ بن سکے۔انہوں نے کہا کہ وہ ونبھول پورہ کے تعلق سے بھی حکومت سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں بھارت کے ہندوؤں کا وجود خطرے میں ہے۔ ہندوؤں کی حکومت ہوگی تو ہندوؤں کو کبھی خطرہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مہاراجہ ہری سنگھ نے جموں و کشمیر پر حکومت کی، اس وقت جموں و کشمیر میں 75 فیصد مسلمان تھے۔ اس وقت ایک بھی ہندو پر حملہ نہیں ہوا تھا۔ اس لیے ہر جگہ ہندو حکومت کا ہونا ضروری ہے۔ ہلدوانی کے ونبھول پورہ میں تجاوزات ہٹانے کے معاملے پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا حق نہیں ہے۔ ونبھول پورہ میں کسی خاص کمیونٹی کے کتنے فیصد لوگ رہتے ہیں، یہ سب جانتے ہیں۔