نئی دہلی: بی جے پی لیڈر شاہنواز حسین کو سپریم کورٹ سے دھچکالگا ہے۔ سپریم کورٹ نے عصمت دری کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کے دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر سے روک اٹھالی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ آپ دیگر قانونی متبادل اپنائیں، ہم ریلیف نہیں دے سکتے۔بی جے پی لیڈر شاہنواز حسین پر الزام ہے کہ اس نے شکایت کنندہ کو اپنے بھائی کے ساتھ کچھ معاملات طے کرنے کے لیے اپنے فارم ہاو¿س پر بلایا جہاں اسے شراب پلائی گئی۔ وہ شراب پینے کے بعد بے ہوش ہوگئی اور اس کے بعد حسین نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ روہتگی نے 12 اکتوبر 2022 کو سماعت کے دوران کہا تھا کہ شاہنواز حسین 40 سال سے عوامی شخصیت ہیں۔ روہتگی نے کہا تھا کہ شاہنواز حسین کے بھائی کے خلاف 31 جنوری 2018 کو شکایت درج کرائی گئی تھی، جب کہ یہ واقعہ 12 اپریل 2018 کو پیش آیا تھا۔ اگر اس کے ساتھ 12 اپریل کو عصمت دری ہوئی ہوتی تو اس کا ذکر 25 اپریل کی شکایت میں ہوتا۔ شکایت کنندہ ہر ماہ، ہر ہفتے تھانے جاتی ہے اور شاہنواز کے بھائی سے جھگڑا کرتی رہتی ہے۔22 اگست کو عدالت نے شاہنواز حسین کو راحت دیتے ہوئے عصمت دری کے الزام میں ایف آئی آر درج کرنے کے دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگا دی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے شاہنواز حسین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو تین ماہ کے اندر اندر تحقیقات کرنے اور ٹرائل کورٹ میں رپورٹ داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ تمام حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ پولیس اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے پولیس سے کارروائی کی رپورٹ طلب کی تھی، لیکن عدالت میں پیش کی گئی پولیس رپورٹ حتمی نہیں تھی۔درحقیقت 22 اپریل 2018 کو دہلی کی ایک خاتون نے پولیس اسٹیشن میں شکایت کی تھی کہ شاہنواز حسین نے چھتر پور کے ایک فارم ہاو¿س میں اس کا ریپ کیا۔ خاتون کے مطابق پولیس نے ان کی شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس کے بعد 26 اپریل 2018 کو خاتون نے پولیس کمشنر سے شکایت کی۔ خاتون کی شکایت کے مطابق پولیس شاہنواز حسین کو بچانا چاہتی تھی۔ 21 جون 2018 کو خاتون نے ساکیت کی عدالت میں درخواست دائر کی جس میں شاہنواز حسین کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ پولیس نے ٹرائل کورٹ کو بتایا کہ شاہنواز حسین کے خلاف کوئی کیس نہیں بنتا ۔ ٹرائل کورٹ نے دہلی پولس کی دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ خاتون کی شکایت میں قابل شناخت جرم پایا گیا ہے۔ ساکیت کورٹ کے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے 7 جولائی 2018 کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔