نئی دہلی: سمیر چودھری۔ 
ٹی وی چینلز پر سماج اور ملت کی بیباک آواز سمجھے جانے والے اور نہایت موثر انداز میں اپنی بات کہنے میں مہارت رکھنے والے نوجوان عالم دین مولانا سید اطہر حسین دہلوی کا 48 سال کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے کے سبب بدھ کی رات تقریبا ساڑھے دس بجے اِنتقال ہو گیا ہے۔
مولانا دہلوی کے جوان العمری میں اچانک اس حادثے سے متعلقین اور عزیز و اقارب کے علاوہ ان سے تعلق رکھنے والوں و اُنکے چاہنے والوں میں غم کی لہر دوڑ گئی، مولانا اطہر دہلوی انتہائی مہذب، سلیقہ مند اور نہایت نفیس شخصیت کے مالک تھے، جو ہمیشہ اسلامی نقطہ نظر کو پیش نظر رکھتے تھے، مرحوم ٹی وی ڈیبیٹ میں بھی ملک و ملت اور سماج کی بے باک اور موثر آواز سمجھے جاتے تھے، ان کے اچانک انتقال سے گہرا دکھ پہنچا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ آج رات اچانک دریا گنج میں واقع اپنی رہائش گاہ پر مولانا کو ہارٹ اٹیک آیا، اہل خانہ فوراً انہیں لے کر ہسپتال پہنچے لیکن اس وقت تک ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی تھی۔  4 اکتوبر 1974 میں دہلی میں پیدا ہوئے مولانا سید اطہر حسین دہلوی مختلف، تعلیمی، سماجی اور دینی کاموں میں سرگرم رہتے تھے، وہ کئی تنظیموں کے رکن اور سربراہ بھی تھے۔ وہ کافی وقت تک کانگریس سے بھی جڑے ہوئے رہے ہیں۔