بھوپال: بھوپال سے ملحق ودیشا کی ثنا علی نے اونچی چھلانگ لگا ئی ہے۔ اس کی پرواز ’اسرو‘ کے لئے ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ نے اسے مبارکباد دی ہے اور سرکاری افسران سے لے کر سماجی کارکنان تک اس کے گھر مبارکبادیاں دینے آرہے ہیں۔ایک ڈرائیور کا گھر اچانک پوری ریاست میں اہم ہوگیا ہے۔ 
ثناعلی کی کامیابی کم اہم نہیں ہے کیونکہ خوشحال گھرانوں کے بچے بھی جس مقام تک نہیں پہنچ پاتے، ایک غریب کی بیٹی پہنچ گئی ہے۔ثنا بڑی ہوئی تو رشتہ دار اور دوست اس کے والدین کو اس کی شادی کردینے کا مشورہ دینے لگے۔ باپ کا خواب تھا کہ بیٹی بڑی ہو کر ملک کی خدمت کرے۔ ثنا علی نے ڈرائیور باپ کا خواب پورا کر دیا۔ اس کا انتخاب ’اسرو‘ میں ہو گیا ہے۔ جس کے بعد اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ثنا کی کامیابی پر پوری ریاست کو فخر ہے۔ والدین نے اس کی پڑھائی کے لیے زیورات گروی رکھے تھے۔اسرو میں ان کے انتخاب کے بعد سی ایم شیوراج سنگھ چوہان اور مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے مبارکباد دی۔
ثنا علی اپنے خاندان کے ساتھ ودیشا کے نکاس محلے میں رہتی ہے۔ اس کے والد ساجد علی ڈرائیور ہیں۔ ثنا علی کو ستیش دھون اسپیس سینٹر اسرو کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ وہ جلد ہی وہاں بطور ٹیکنیکل اسسٹنٹ جوائن کریگی۔ثنا بچپن سے ہی پڑھائی میں تیز تھی۔ اس نے اپنی تعلیم ایس ٹی آئی کالج سے مکمل کی ہے۔ ثنا علی نے یہاں سے ایم ٹیک کیا ہے۔ خاندان کی معاشی حالت خراب ہونے کی وجہ سے ثنا کو اپنی پڑھائی کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ثنا کے والد ساجد علی ایس ٹی آئی میں ڈرائیور رہ چکے ہیں۔ بعد میں لیب اسسٹنٹ بن گئے۔ 
ساجد علی نے قرض لے کر اپنی بیٹی کی تعلیم مکمل کرائی ہے۔ اس دوران خاندان کو کئی بار مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ باجود اس کے ساجد علی نے اپنی بیٹی کو تعلیم میں پیسے کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ انہوں نے اپنی پوری قوت سے بیٹی کی تعلیم مکمل کرائی۔ثنا کی پڑھائی کے دوران ایک وقت ایسا آیا جب اس کی ماں کو اپنے زیورات رہن رکھنے پڑے۔ ساتھ ہی ثنا اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے پڑھائی کے دوران ٹیوشن پڑھاتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی پڑھائی پر بھی پوری توجہ دیتی تھی۔ صرف ودیشا ہی نہیں، پورے مدھیہ پردیش کو ثنا کی کامیابی پر فخر ہے۔ اس کے ساتھ ہی والد کا خواب بھی پورا ہوگیا۔