جالے/دربھنگہ: محمدرفیع ساگر۔
بہار کے معروف سماجی کارکن و صحافی شاہنواز بدر قاسمی نے حکومت بہار پر مسلمانوں کو ٹھگنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاہے کہ عظیم اتحاد کی یہ سرکار مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرکے انہیں بے وقوف بنانے کا کام کررہی ہے جو بیحد افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔ 
شاہنواز بدر نے کہاکہ جب ریاست میں بی جے پی اور جدیو اتحاد کی حکومت تھی تو نتیش کمار جی کہتے تھے بی جے پی ہمیں مسلمانوں کیلئے کام نہیں کرنے دے رہی ہے لیکن تیجسوی کے ساتھ سرکار بنانے کے بعد بھی مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا رویہ بدلا نہیں ہے بلکہ اعلی افسران موقع ملتے ہی موقع مسلم دشمنی پر اتر آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں پرائمری ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے سرکاری اسکولوں کیلئے جو تعطیل نامہ شائع کیا گیاہے اس میں اردو اسکولوں کی شناخت کو ختم کرنے کیلئے جمعہ کی چھٹی ختم کردی گئی ہے اور جب وزیر تعلیم سے یہ شکایت کی گئی تو انہیں نے کہاکہ اس تعطیل نامہ کو ہم منسوخ نہیں کرسکتے ہیں۔
شاہنواز بدر نے کہاکہ اس تعطیل نامہ نے اپنا رنگ دیکھنا شروع کردیا ہے۔ کئی اضلاع کے متعصب افسران باضابطہ ہدایت نامہ جاری کرکے اردو اسکولوں کے اساتذہ کو پریشان کرنے لگے ہیں۔حالیہ دنوں سیوان کے ڈی ای او متھلیش کمار کی طرف سے جاری آڈر پر شاہنوازبدر قاسمی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے اردو اسکولوں کے اساتذہ اب جمعہ کی تعطیل کے بجائے اتوار کو چھٹی کریں گے ۔ایسے طغلقی آڈرسے ایک خاص فرقے کو نشانہ بنایا گیا ہے جو کافی افسوسناک ہے۔انہوں نے حکومت سے ایسے متعصب افسران پر فوری ایکشن لینے کی مانگ کرتے ہوئے آڈر منسوخ کرنے کی بات بھی رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہار میں آزادی سے قبل سے اردو اسکولوں میں جمعہ کی چھٹی ہوتی رہی ہے لیکن افسران کی شرارت اور مسلم دشمنی نے اس فرمان نامہ کو جاری کرنے پر مجبور کردیا ہے اور حکومت تماشائی بنی ہے۔ اب تک اس سلسلے میں حکومت بہار کا کوئی واضح موقف سامنے نہیں آنا بھی ایک خاص سازش کی طرف اشارہ کررہا ہے۔شاہنواز بدر نے کہاکہ اس تعطیل نامہ کو فوری طورپر منسوخ کیاجائے ورنہ کئی طرح کے مسائل اور مشکلات پیدا ہوں گے۔
شاہنواز بدر نے کہاکہ بہار کی مسلم قیادت حکومت بہارکے خلاف ایک لفظ بولنے کو تیار نہیں ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت سے سب خوف زدہ ہیں اور ناراضگی کے ڈر سے مجرمانہ خاموشی اختیار کرلیا ہے جو بیحد تشویش کی بات ہے۔انہوں نے کہاکہ مسئلہ صرف جمعہ کی چھٹی کا نہیں بلکہ بہار کے اکثریت اقلیتی ادارے اس وقت بدحالی کے دور سے گذر رہا ہے،گزشتہ چار سالوں سے بہار اردو اکیڈمی کے سکریٹری کا عہدہ خالی ہے جس کی وجہ سے جو فنڈ آیا ہوا ہے وہ بھی خرچ نہیں ہوپارہے ہیں اردو کی تمام تر سرگرمیاں ختم ہوتی جارہی ہے، اسی طرح ایک سال سے بہار مدرسہ بورڈ اور اقلیتی کمیشن کے چیرمین کا عہدہ بھی خالی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں مسلمانوں کو پریشانیاں ہورہی ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے، حکومت کوان اہم عہدے کے پُر کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔بہار کے اقلیتی اداروں کی بدحالی کو دیکھ کر حکومت کی نیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔