نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں انتہاپسندوں نے ایک مسلمان طالب علم کو ہندو لڑکی سے بات کرنےکے الزام میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایسا لگتا ہے ملک میں انتہاپسندوں کو مسلمانوں پر تشدد کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔
حالیہ واقعہ ریاست مدھیہ پردیش کے کھنڈوا ضلع کے ایک کالج کا ہے، جہاں ہندو انتہا پسند گروپ نے ایک مسلمان طالب علم کو ایک ہندو لڑکی سے بات کرنےکے الزام پرشدید مار پیٹ کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ مسلمان طالب علم مقامی کالج میں کمپیوٹر سائنس کا طالب علم ہے۔ حالانکہ اس معاملہ میں پولیس نے رپورٹ درج کرکے جانچ شروع کر دی۔ پورے واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔
ہندوتوا واچ کے مطابق، کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کرنے والا طالب علم اپنی دوست کے ساتھ کتابوں پر بحث کر رہا تھا جب ہندوتوا کے ایک گروپ نے اسے ایک طرف لے جا کر بے رحمی سے ڈنڈوں سے مارا۔
اگرچہ طالب علم، جس کی شناخت شہباز کے نام سے ہوئی ہے، نے حملہ آوروں کے خلاف شکایت درج کرائی ہے، تاہم ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔مدھیہ پردیش کے صحافی کاشف کاکوی نے ٹویٹ کیا کہ حملہ آوروں کا تعلق ہندو جاگرن منچ سے تھا۔