حیدرآباد: یکساں سیول کوڈ کا ہندوستان جیسے ملک میں نفاذ دشوار کن مرحلہ ہے جہاں ہر ریاست کا کلچر، تہذیب و تمدن مختلف ہے۔ حکومتیں اور سیاسی جماعتیں اسے انتخابی وعدے کے طور پر استعمال کرتی آئی ہیں، اور مابعد انتخابات اسے بُھلا دیا جاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر فیضان مصطفی سابق وائس چانسلر نلسار یونیورسٹی نے اولین صغرا ہمایوں مرزا یادگاری خطبے میں مہمان مقرر کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شعبہ تعلیمِ نسواں، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے صفدریہ گرلز ہائی اسکول کے اشتراک سے اس یادگاری لیکچر کا انعقاد کیا تھا۔ پروفیسر سید عین الحسن وائس چانسلر، مانو نے صدارت کی، جبکہ پروفیسر فاطمہ علی خان سابق صدر شعبہئ جغرافیہ عثمانیہ یونیورسٹی نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور خطاب بھی کیا۔ابتداء میں صدرِ شعبہ ڈاکٹر آمنہ تحسین نے خیر مقدم کیا اور اس یادگاری لکچر کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔ اس موقع پر سماجی مصلح اور حیدرآباد میں تعلیم نسواں کی علمبردار صغری ہمایوں مرزا کی زندگی پر تیار کی گئی ایک ڈاکیومنٹری کی بھی نمائش کی گئی۔ پروفیسر فیضان مصطفی نے واضح انداز میں کہا کہ آزادیئ مذہب کی بنیاد پر یکساں سیول کوڈ کی مخالفت زیادہ دیر تک نہیں کی جاسکتی۔اس کے بجائے آرٹیکل 29 کے تحت حق ثقافت اس کے لیے بہترین ڈھال ہوسکتی ہے۔ پروفیسر فیضان مصطفی نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوے کہا کہ ماضی میں جہاں خواتین کی تعلیم کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی تھی، ایسے وقت میں مرزا صغری ہمایوں کا تعلیم حاصل کرنا اور پھر لڑکیوں اور خواتین کو اس کے لئے ترغیب دینا ایک عظیم کارنامہ ہے۔