الریاض: سعودی عرب کے دورے پر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑگیا۔ گزشتہ روز سعودی عرب کے وزیراعظم و ولی عہد محمد بن سلمان سے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ریاض میں ملاقات کی تھی۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پہلے تو (بروز ہفتہ) امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو ملاقات کے لیےگھنٹوں انتظار کروایا اور پھر اگلی صبح (اتوار) کو ملاقات کی تو زور غزہ کے معصوم فلسطینیوں کا قتل رکوانے پر دیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سعودی ولی عہد نے اتوار کے روز ہونے والی ملاقات میں اسرائیل فلسطین کی صورت حال پر سخت پیغام دیتے ہوئے غزہ میں فوجی آپریشن رکنے اور غزہ کا اسرائیلی محاصرہ ختم کروانے پر زور دیا۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں میں معصوم فلسطینی قتل ہو رہے ہیں، اسرائیل کو چاہیےکہ غزہ کا محاصرہ ختم کرے، غزہ کو پانی، بجلی اور ایندھن کی فراہمی بحال کرے۔
اس سے قبل ملاقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ سعودی ولی عہد سے آگے بڑھنےکے لیےکئی اچھی تجاویز پر بات ہوئی ہے۔
ادھر، امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہےکہ غزہ پر اسرائیل کا قبضہ بڑی غلطی ہو گی۔ امریکی صدر جو بائیڈن کا ایک انٹرویو کے دوران کہنا تھا حماس کا وجود مٹانا ہو گا اور ان کا کہنا تھا جلد اسرائیل کا دورہ کرنے پر بھی غور کر رہا ہوں۔ صدر جو بائیڈن نے فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ حماس فلسطینیوں کی حق خود ارادیت کی ترجمانی نہیں کرتی جبکہ محمود عباس نے بھی امریکی صدر کی تائید کی۔
0 Comments