Latest News

غزہ میں نسل کشی روکنے کے لئے ہندوستان اور عالمی برادری اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے: امیر جماعت اسلامی ہند کی اپیل۔

نئی دہلی: امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت ’آئی سی جے ‘ میں گھسیٹنے پر جنوبی افریقہ کی ستائش کرتے ہوئے حکومت ہند اور مسلم ممالک سے اپیل کی کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی کے لئے اسرائیل پر دباؤ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’آئی سی جے‘ کی جانب سے عبوری فیصلے میں یہ کہے جانے کے بعد کہ ’’ اسرائیل کو غزہ کے خلاف جنگ میں نسل کشی کی کاروائیوں سے باز رہنے کی اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہئ‘‘ ، جماعت اسلامی ہند جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کو اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین عدالتی ادارے میں گھسیٹنے کے جرات مندانہ اور بروقت اقدام کو سراہتی ہے۔
جنوبی افریقہ نے استعماریت، غاصبانہ قبضے اور نسل پرستی کے خلاف لڑنے کی اپنی شاندار روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے فلسطین کی جانب سے یہ قدم اٹھایا اور ’ آئی سی جے ‘ کے سامنے یہ بات رکھی کہ اسرائیل غزہ میں انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور نسل کشی کا ارتکاب کررہا ہے۔ جنوبی افریقہ اپنے دعوے میں صحیح ثابت ہوا ہے، کیونکہ ’ آئی سی جے‘ نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ’’آرٹیکل 3 میں نشاندہی کی گئی ہدایتوں کے مطابق غزہ کو نسل کشی اورمتعلقہ ممنوعہ کاروائیوں سے محفوظ رکھا جانا چاہئے‘‘ اور جنوبی افریقہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کنونشن کے تحت اسرائیل سے ان ہدایتوں کا احترام کرنے اور ان کی تعمیل کرنے کا مطالبہ کرے‘‘۔
امیر جماعت نے کہا کہ ہم ’آئی سی جے‘ کے ریمارکس کا خیر مقدم کرتے ہیں ، خاص طور پر جن کا ذکر پیرا 54، 78 اور 79 میں کیا گیا ہے ، حالانکہ ہمیں مایوسی بھی ہوئی کہ ’ آئی سی جے ‘ نے واضح طور پر غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا ۔ تاہم اس فیصلے کا مثبت پہلو یہ ہے کہ یہ نسل کشی کو روکنے کے مقصد کو پورا کرتا ہے اور غزہ میں طبی مراکز اور گنجان آبادی والے علاقوں پر اسرائیل کے فضائی حملوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ’ آئی سی جے‘ میں 2 کے مقابلے 15 کی اکثریت نے جنوبی افریقہ کے اقدامات کی حمایت کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسرائیل پر جنگ سے باز رہنے اور نسل کشی سے دور رہنے کے لئے دباؤ بنانے پر متفق ہیں۔‘‘ امیر جماعت نے کہا کہ ’’ بین الاقوامی عدالت میں اسرائیل کی فرد جرم کو غزہ میں امن کے حصول اور دشمنی کے خاتمے تک جاری رکھنا چاہئے۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر