Latest News

مدھیہ پردیش میں مسلم ٹیلرکی پٹائی، امام مسجد سے بدسلوکی، ایک شرپسند گرفتار، تھانہ میں نعرہ بازی اور اشتعال انگیزی کا الزام، ۴۰ مسلمانوں پر مقدمہ، این ایس اے لگانے کی تیاری، بلڈوزر کارروائی کا بھی خدشہ۔

بھوپال: فری لانس صحافی اشرف حسین نے اپنے ایکس اکائونٹ پر لکھا کہ مدھیہ پردیش کے دامو شہر کے مسجد کے امام کے ساتھ سنیچر کو چار نوجوانوں کے ذریعے مارپیٹ کی گئی ، نوجوانوں پر کارروائی کو لے کر تھانہ پر بھیڑ جمع ہوئی اور ان کی گرفتاری کو لے کر بھیڑ میں موجود ایک شخص کے ذریعہ قابل اعتراض زبان کا استعمال کیاگیا، اس نوجوان کو پولس اور وہاں موجود لوگوں کے ذریعہ ڈانٹ ڈپٹ کر بھگادیاگیا، لیکن اس واقعہ کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انتظامیہ سخت دکھائی دے رہی ہے، مسلم سماج کے ۴۰ سے زائد لوگوں پر سنگین دفعات میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے، این ایس اے لگانے کی تیاری اور بلڈوزر چلانے کو لے کر بھی سگبگاہٹ تیز ہوگئی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ دفتر سے ٹوئٹ کے مطابق داموہ میں شرپسندوں نے قانون اور نظم ونسق کو بگاڑنے کی کوشش کی جسے پولس انتظامیہ نے بروقت سنبھال لیا، اس واقعہ کو لے کر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے جانچ کا حکم دیا ہے، خاطیوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔ مدھیہ پردیش میں امن کی برقراری حکومت کی اولین ترجیح میں شامل ہے۔ صحافی کاشف کاکوی کی رپورٹ کے مطابق داموہ میں مسجد کے پاس ٹیلر انصار خان سے کپڑوں کی سلائی میں تاخیر ہونے پر چار لڑکے للو شرما، وکی شرما، راجو ٹھاکر اور ایک دیگر نے اس کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ کی ۔ وہیں کھڑے مسجد کے امام حافظ رضوان خان بیچ بچائو کرنے کی کوشش کی تو ان لڑکوں نے ان کے ساتھ بھی ہاتھا پائی کی، ایف آئی آر کے مطابق پتھروں سے ان کی بائیک کچل دی۔ امام سے بدتمیزی کی خبر جب لوگوں کو پہنچی تو سینکڑو ںکی تعداد میں لوگ کوتوالی پہنچے اور کارروائی کا مطالبہ کرنے لگے۔ پولس نے چاروں نوجوانوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ ۲۹۴، ۳۲۳، ۵۰۶، ۴۲۷، ۳۴ کے تحت ایف آئی آر درج کرلی لیکن لوگ گرفتاری کے مطالبے پر اٹل ہوگئے۔ اس دوران ایک نوجوان نے پولس پر گرفتاری کا دبائو بنانے کےلیے ان نوجوانوں کو الٹا سیدھا بھی کہا لیکن پولس کی سختی اور امام کی اپیل پر سب اپنے گھروں کو چلے گئے۔ قانون نظم ونسق کے پیش نظر پولس نے شہر میں رات بھر گشت کی، فی الحال چار میں سے ایک کو گرفتار کرلیاگیا ہے، اس واقعہ کا فائدہ اُٹھا کر کچھ لوگ اسے الگ رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر