Latest News

خاموشی اختیار کرنا بھی نجات کا سبب بنتا ہے: خطیب محمد اقبال۔

آگرہ: مسجد نہر والی، سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج کے خطبۂ جمعہ میں خاموشی کی اہمیت اور اس کے فوائد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز ایک مشہور حدیث سے کرتے ہوئے کہا:
"من صمت نجا" (ترمذی، حدیث نمبر 2501)
یعنی جو خاموش رہا، اس نے نجات پائی۔
انہوں نے کہا کہ خاموشی میں بہت بڑی دانائی پوشیدہ ہے۔ بعض اوقات چپ رہنا بولنے سے کہیں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ خاموشی انسان کو بہت سی پریشانیوں اور فتنوں سے بچا لیتی ہے۔ خاموش رہنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان بولنے سے پہلے غور و فکر کرتا ہے، منصوبہ بندی کرتا ہے اور پھر سوچ سمجھ کر گفتگو کرتا ہے۔ ایسی بات میں وزن بھی ہوتا ہے اور سننے والوں پر اس کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے۔
خطیب محمد اقبال نے قرآن کریم کی سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 83 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور لوگوں سے اچھی بات کہو"۔
اسی طرح صحیح بخاری کی حدیث نمبر 6018 میں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:
"جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے"۔
انہوں نے کہا کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی ان تعلیمات پر عمل کرتے ہیں؟ ہم اللہ، رسول ﷺ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں، پھر بھی بغیر سوچے سمجھے بول دیتے ہیں، جس سے نقصان ہی ہوتا ہے۔
البتہ انہوں نے واضح کیا کہ خاموشی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حق بات کہنے کے موقع پر انسان خاموش تماشائی بن جائے۔ موقع اور محل کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ جہاں بولنا ضروری ہو، وہاں حق اور سچ کا اظہار بھی کرنا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی زندگی میں پہلے سوچو، پھر بولو کے اصول کو اپنا لیں تو اللہ کے فضل و کرم سے نہ صرف بہت سی پریشانیوں سے محفوظ رہیں گے بلکہ معاشرے میں عزت اور وقار کا مقام بھی حاصل کریں گے۔
انہوں نے دعا کی: اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر