آگرہ: مسجد نہر والی سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبہ جمعہ میں نمازیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم بات کریں گے وطن سے محبت کے بارے میں ، انہوں نے کہا کہ عربی کا ایک مقولہ ہے " حب الوطن من الایمان " یعنی ، وطن سے محبت کرنا ایمان کا ایک حصہ ہے , یہ ہی اصل میں فطرت ہے جو کہ انسانی نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے ، مثال کے طور پر حدیث میں کہیں یہ نہیں آیا " ماں کی محبت ایمان کا حصہ ہے " اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر مسلمان اس کو اپنا فرض سمجھتا ہے کہ اس کے دل میں اپنی ماں سے محبت ہو ، جس کے دل میں اپنی ماں سے محبت نہ ہو ، وہ اپنے ایمان میں بھی کامل نہیں ہوسکتا ، اسی طرح وطن سے محبت بھی بلا شبہ ہر مسلمان کے لئے ایک ایمانی تقاضے کی حیثیت رکھتی ہے ، یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان جس ملک میں پیدا ہو ، وہاں کی ہوا میں سانس لیا ہو ، وہاں کے لوگوں سے تعلقات ہوں ، وہاں وہ زندگی بسر کرے ، تو ملک سے محبت کرنا بھی اس کے انسانی اور ایمانی تقاضے کا حصہ ہے ، اب اگر کوئی شخص اپنے خود ساختہ عقیدہ کی وجہ سے اپنی ماں کو " معبود " مان لے ، اور اس کی پرستش کرنے لگے ، تو اس بنیاد پر اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کے علاوہ بقیہ تمام لوگ اپنی ماں سے محبت نہیں کرتے ، ماں کو معبود مان لینا یہ اس کی اپنی مرضی ہے ، اس بنیاد پر کسی کو یہ سمجھنا کہ یہ اپنی ماں کو میری طرح معبود نہیں مانتا تو یہ وطن سے بھی محبت نہیں کرتا ، یہ کونسی دلیل ہے ؟ آپ اپنی ماں کو یا اپنے وطن کو معبود مانیں اور اس کی عبادت کریں آپ کو اختیار ہے ، ہم یہاں پیدا ہوئے ، یہاں کی ہوا میں سانس لیا ، یہاں زندگی بسر کی ، اور مرنے کے بعد اسی ملک کی مٹی میں دفن ہوئے اس لیے وطن سے محبت کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے ، وہ شخص انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں جو اپنے وطن سے محبت نہیں کرتا _

0 Comments